لائل پور سے فیصل آباد تک: ایک شہر کی داستان

لائل پور صرف ایک شہر نہیں تھا، بلکہ یہ ایک نئی تہذیب کا مرکز تھا۔ جب یہ شہر بسا تو یہاں مختلف علاقوں سے لوگ آ کر آباد ہوئے۔ انہوں نے نہ صرف مکان بنائے بلکہ ایک ایسا سماجی نظام تشکیل دیا جہاں ایک دوسرے کا خیال رکھنا اور اپنی زبان کا پاس رکھنا ایک امانت سمجھا جاتا تھا۔ یہ وہ زمین تھی جسے پرانے اعتبار کی سرزمین کہا جاتا ہے، جہاں لفظوں کی لاج رکھی جاتی تھی اور دیواروں سے اپنائیت ٹپکتی تھی۔

آج یہی شہر فیصل آباد کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ اسے "پاکستان کا مانچسٹر” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں کی ٹیکسٹائل انڈسٹری نے پوری قومی معیشت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن یہ شہر صرف کارخانوں اور مشینوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ اس کی گلیوں، بازاروں، نہر کے کناروں اور یہاں بسنے والے لوگوں کے دلوں میں ایک پرانی داستان ابھی زندہ ہے۔

باب اول: تاریخی پس منظر

برطانوی دور میں شہر کی بنیاد

انیسویں صدی کے آخر میں برطانوی راج نے پنجاب کے نہروں والے علاقوں کو آباد کرنے کا منصوبہ بنایا۔ لوئر چناب کالونی کے تحت ایسے شہر بسائے گئے جو زرعی پیداوار کو فروغ دیں۔ لائل پور انہی منصوبوں کا ایک اہم نتیجہ تھا۔ 1890 میں جب اس شہر کی بنیاد رکھی گئی تو اسے سر جیمز براڈووڈ لائل کا نام دیا گیا، جو اس وقت لیفٹیننٹ گورنر پنجاب تھے۔

شہر کا نقشہ کیپٹن پوہم ینگ نے تیار کیا۔ انہوں نے گھنٹہ گھر کو مرکز رکھتے ہوئے آٹھ بازار ڈیزائن کیے جو اس مرکز سے نکل کر پھیلتے تھے۔ یہ ڈیزائن دراصل برطانوی جھنڈے سے اخذ کیا گیا تھا، مگر اس کے تحت ایک گہرا پیغام بھی تھا: چاہے راستے الگ الگ ہوں، ہمارا مرکز ایک ہے۔ یہ نقش آج بھی فیصل آباد کے پرانے شہر میں موجود ہے اور اس شہر کی پہچان ہے۔

زرعی پس منظر

1906 میں یہاں پنجاب ایگریکلچرل کالج قائم ہوا جو بعد میں زرعی یونیورسٹی بن گیا۔ اس ادارے نے نہ صرف اس علاقے کو زرعی ترقی کی راہ پر گامزن کیا بلکہ پورے برصغیر میں زرعی سائنس کی بنیاد رکھی۔ یہاں کپاس، گندم اور گنے کی کاشت نے اس علاقے کو معاشی طور پر خودکفیل بنا دیا۔

نہر کی ثقافت اس شہر کی روح تھی۔ شہر کے بیچوں بیچ بہتی نہر صرف پانی نہیں دیتی تھی بلکہ یہ شہر کے سکون اور پرانی یادوں کی رکھوالی کرتی تھی۔ لوگ نہر کے کنارے بیٹھ کر باتیں کرتے، پرانے قصے سناتے اور شام کے جھلملاتے پانی میں اپنے ماضی کے عکس دیکھتے تھے۔

باب دوم: آبادی اور سماجی ڈھانچے میں تبدیلی

تقسیم ہند کا اثر

1947 میں جب پاکستان بنا تو لائل پور کی آبادی میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا۔ تقسیم ہند کے نتیجے میں مشرقی پنجاب سے آنے والے مہاجرین کی بڑی تعداد نے یہاں سکونت اختیار کی۔ 1941 میں جہاں آبادی 71,000 تھی وہیں 1951 میں بڑھ کر 421,000 ہوگئی۔ ان مہاجرین نے اپنے ساتھ نہ صرف اپنا سرمایہ اور ہنر لایا بلکہ وہ اپنی تہذیب، اپنی زبانیں اور اپنے دکھ بھی ساتھ لائے۔

نام کی تبدیلی

1977 میں شہر کا نام تبدیل کر کے فیصل آباد رکھا گیا۔ یہ تبدیلی سعودی عرب کے شاہ فیصل بن عبدالعزیز کی پاکستان سے محبت اور خدمات کے اعتراف میں تھی۔ شاہ فیصل نے پاکستان کو متعدد بار مالی امداد دی اور اسلامی ممالک کے اتحاد کے لیے کام کیا۔ انہی کے کہنے پر پاکستان نے 1974 میں لاہور میں اسلامی سربراہی اجلاس منعقد کروایا۔ شہر کا نام تبدیل کرنا ان خدمات کا ایک اعتراف تھا، مگر پرانے لوگ آج بھی اسے پیار سے لائل پور کہتے ہیں۔

faisalabad history culture lyallpur 1

باب سوم: صنعتی انقلاب – پاکستان کا مانچسٹر

ابتدائی صنعتیں

بیسویں صدی کے شروع میں ہی لائل پور میں صنعتوں نے قدم جمانا شروع کر دیے تھے۔ 1930 کی دہائی میں لائل پور کاٹن ملز کے قیام نے صنعتی انقلاب کی بنیاد رکھی۔ یہاں کی زرخیز زمین کپاس کی کاشت کے لیے بہترین تھی اور کپاس مل کے قریب ہی ہونے سے لاگت کم ہوتی تھی۔

بڑے صنعتی گھرانوں کا عروج

تقسیم کے فوراً بعد سیگول خاندان نے یہاں کوه نور ٹیکسٹائل ملز 1948 میں لگائی۔ یہ پاکستان کی بڑی صنعتی تنظیموں میں سے ایک بن گئی اور اس نے ہزاروں لوگوں کو روزگار دیا۔

ابراہیم گروپ نے حاجی شیخ محمد ابراہیم کی رہنمائی میں 1980 میں پہلی جدید اسپننگ مل لگائی۔ آج یہ گروپ لاکھوں سپنڈلز پر مشتمل ہے اور پاکستان کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل برآمد کنندگان میں شامل ہے۔

چناب گروپ، نشاط گروپ اور دیگر کئی صنعتی گھرانے بھی فیصل آباد سے ہی اٹھے اور آج وہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات بھیجتے ہیں۔

معاشی اعداد و شمار

آج فیصل آباد پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں بیس فیصد سے زائد حصہ ڈالتا ہے۔ یہاں ٹیکسٹائل مشینری، کیمیکل فرٹیلائزر، آئل اور دوائیں تیار کی جاتی ہیں۔ فیصل آباد میں پاکستان کی کل ٹیکسٹائل برآمدات کا چالیس فیصد سے زیادہ حصہ تیار ہوتا ہے۔ اسی لیے اسے "پاکستان کا مانچسٹر” کہا جاتا ہے۔

ڈرائی پورٹ اور بین الاقوامی ہوائی اڈے نے اس شہر کو عالمی منڈیوں سے جوڑ دیا ہے۔ سپیشل اکنامک زون کے قیام سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

باب چہارم: جٹ روایات اور سماجی اقدار

فیصل آباد کی ثقافت میں جٹ برادری کی گہری چھاپ ہے۔ یہ شہر للی جٹ جیسی ذیلی برادریوں کا مرکز رہا ہے، جو اعلیٰ درجے کے کسان اور صنعت کار سمجھے جاتے ہیں۔

یہاں کی "جگتوں” یعنی اجتماعی برادریوں میں آج بھی وہ اقدار موجود ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا۔ لفظوں کی لاج رکھی جاتی ہے، ایک دوسرے کا خیال رکھنا ایک امانت سمجھا جاتا ہے۔ پرانے برگد کے درختوں کے نیچے بیٹھ کر فیصلہ سازی کا رواج آج بھی دیہاتوں اور شہر کے پرانے محلوں میں ملتا ہے۔

فیصل آباد کی عورتیں بھی اس معاشرے کا اہم حصہ ہیں۔ گھروں میں ہاتھ سے کماد کاٹنا، چرخے پر سوت کاتنا اور پھر اس سے چادراں بنانا ان کی مہارت کی نشانی تھی۔ آج بھی پرانے گھروں میں یہ روایتیں زندہ ہیں۔

کچہری بازار کی چہل پہل اور پرانے چائے خانوں میں نسل در نسل بیٹھنے والے لوگ اس بات کی مثال ہیں کہ یہاں کے لوگ آج بھی اپنی جڑوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ پرانے برگد کے درخت جو شہر کے مضافات اور پرانے علاقوں میں موجود ہیں، ان یادوں کے گواہ ہیں جب لائل پور ایک پرسکون اور ہرا بھرا شہر ہوا کرتا تھا۔

faisalabad history culture lyallpur 2

باب پنجم: موسیقی کی روایت – قوالی سے جدید دور تک

نصرت فتح علی خان: شہنشاہِ قوالی

یصل آباد نے وہ صدا دی ہے جس نے صوفیانہ کلام کو عالمی شہرت دی۔ نصرت فتح علی خان کا تعلق فیصل آباد کے علاقے گھنٹہ گھر کے قریب محلہ جھنڈے والا سے تھا۔ وہ قوالی کے پٹیالہ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔

نصرت فتح علی خان 1948 میں پیدا ہوئے اور 1997 میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی آواز نے برصغیر کی سرحدیں توڑ دیں۔ ان کی معروف قوالیوں میں "تم ایک گورکھ دھندا ہو”، "آفریں آفریں” اور "سنسوں الما” شامل ہیں۔ "سنسوں الما” بھارتی فلم اور دنیا میں بطور پلے بیک ریکارڈ کیا گیا اور اس نے دنیا بھر میں ریکارڈ توڑے۔

نصرت فتح علی خان نے قوالی کو ایک عالمی صنف میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے مغربی موسیقاروں کے ساتھ بھی کام کیا اور دنیا بھر میں کنسرٹ کیے۔ برطانوی موسیقار پیٹر گیبریل نے انہیں مغرب میں متعارف کروایا اور پھر ان کی شہرت نے چاروں طرف پھیل گئی۔

انہیں "شہنشاہِ قوالی” کا خطاب ملا اور آج بھی ان کی وفات کے بعد ان کی قوالیاں اتنی ہی مقبول ہیں جتنی ان کی زندگی میں تھیں۔

راحت فتح علی خان

نصرت فتح علی خان کے بھتیجے اور شاگرد راحت فتح علی خان نے اپنے چچا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قوالی اور نیم کلاسیکل موسیقی میں نام کمایا۔ وہ 1974 میں پیدا ہوئے اور آج بھی سرگرم ہیں۔

ان کی مشہور قوالیوں میں "افانی افانی” اور "دولہا دولہا” شامل ہیں۔ انہوں نے بھارتی فلمی گیت بھی گائے جیسے "زرا سا” فلم دلہے میں۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت اور مغربی ممالک میں کنسرٹ کر کے فیصل آباد کا نام روشن کیا۔

راحت فتح علی خان کی آواز میں ایک الگ قسم کی کشش ہے۔ وہ اپنے چچا کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے نئی نسل تک قوالی کو پہنچا رہے ہیں۔

باب ششم: مزاحیہ سٹیج ڈرامے – ایک الگ شناخت

فیصل آباد نے سٹیج ڈراموں کے شعبے میں بھی کئی جادوگر پیدا کیے، جنہوں نے پنجابی مزاح کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ پنجابی سٹیج ڈرامے اپنے بے باک مزاح، برجستہ مکالموں اور پنجابی ٹھیٹھ لہجے کی وجہ سے پوری پاکستان میں مشہور ہیں۔

ٹیڈی (محمد الیاس)

ٹیڈی کا شمار پنجابی سٹیج کے زبردست مزاحیہ اداکاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے مکالمے آج بھی لوگوں کی زبان پر ہیں۔ وہ جانی اور ببو بارال کے ساتھ اپنے جوڑے دار کرداروں کے لیے مشہور تھے۔

ان کے مشہور ڈراموں میں "اے میں برا آں”، "بے وقوف” اور "شکار” شامل ہیں۔ ٹیڈی کے اداکاری کا انداز بے تکلف، برجستہ اور پنجابی ٹھیٹھ مزاح سے بھرپور تھا۔ ان کی جسمانی حرکات، آنکھوں کے اشارے اور وقت کی پابندی نے انہیں ایک الگ مقام دیا۔

قیصر پیا

قیصر پیا نے سٹیج کو ایک الگ شناخت دی۔ ان کی باریک بین مزاح، وقت کی پابند کامیڈی ٹائمنگ اور یقیناً ان کا مشہور ڈائیلاگ "پیا” فوری طور پر پہچانا جاتا تھا۔ وہ ہنسی کے طوفان کھڑا کر دیتے تھے۔

قیصر پیا نے اپنے کیریئر میں سینکڑوں ڈرامے کیے۔ ان کی پنجابی میں گفتگو کرنے کا اپنا ایک انداز تھا جسے سامعین بہت پسند کرتے تھے۔ آج بھی پرانے سٹیج ڈراموں کے شائقین انہیں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

موجودہ دور: جانی (جان رشید)

جان رشید جو جانی کے نام سے مشہور ہیں، نے ٹیڈی اور دیگر پرانی نسل سے سیکھ کر اپنی جگہ بنائی۔ وہ پنجابی سٹیج کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے اداکاروں میں سے ایک ہیں۔

ان کے مشہور ڈراموں میں "ہاتھ میلے پاؤن چاہیئے”، "ڈبل سواد” اور "تھوڑا مزاج تھوڑا معاملہ” شامل ہیں۔ جانی نے مزاحیہ کرداروں کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار سنگین کردار بھی ادا کیے ہیں، لیکن ان کی پہچان ان کے بے باک، پنجابی ٹھیٹھ لہجے اور فطری مزاح میں ہے۔

جانی نے سٹیج کو ایک نیا انداز دیا ہے۔ وہ موجودہ مسائل، سماجی برائیوں اور سیاسی حالات پر بھی طنزیہ انداز میں بات کرتے ہیں جسے لوگ خوب پسند کرتے ہیں۔

سٹیج ڈراموں کا مستقبل

پنجابی سٹیج ڈرامے آج بحران کا شکار ہیں۔ ٹیلی ویژن، نیٹ فلکس اور یوٹیوب نے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔ سٹیج کے مقامات پر نئے ڈرامے کم ہی ہوتے ہیں۔ لیکن پرانی یادوں کے سہارے آج بھی فیصل آباد کے کچھ تھیٹر کھلے ہیں اور لوگ وہاں جاتے ہیں۔

باب ہفتم: پرانے شہر کی نشانیاں

آج کے جدید دور میں بھی وہ پرانے نقش اور یادیں ان جگہوں پر زندہ ہیں:

ریل بازار کی قدیم حویلیاں

اگر آپ اندرون شہر کی گلیوں میں جائیں تو وہاں کی پرانی عمارتوں کے جھروکے اور لکڑی کے کام والے دروازے آج بھی لائل پور کی کہانی سناتے ہیں۔ یہ حویلیاں اپنے اندر ایک پوری تاریخ سمیٹے ہوئے ہیں۔ ان میں بعض تو متعدد منزلہ ہیں اور ان کے اندرونی صحن میں نہر کا پانی بہتا تھا۔

گھنٹہ گھر

گھنٹہ گھر اب بھی اس شہر کا مرکز ہے۔ اس کے چاروں طرف آٹھ بازار پھیلے ہیں۔ گھنٹہ گھر کے نیچے بیٹھ کر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح لوگ آتے جاتے ہیں، دکانیں کھلتی بند ہوتی ہیں اور پورا شہر اسی محور کے گرد گھومتا ہے۔

نہر کی گلیاں

فیصل آباد کے پرانے علاقوں میں نہر کے دونوں جانب جو گلیاں تھیں، ان میں سے بعض اب بھی موجود ہیں۔ نہر کا پانی اب کم ہے مگر اس کے کنارے پرانے گھروں کی علامت کے طور پر کھڑے ہیں۔

پرانے برگد کے درخت

شہر کے مضافات اور پرانے علاقوں میں موجود قدیم درخت ان یادوں کے گواہ ہیں جب لائل پور ایک پرسکون اور ہرا بھرا شہر ہوا کرتا تھا۔ ان درختوں کے نیچے بزرگوں کی محفلیں سجتی تھیں، فیصلے ہوتے تھے اور باتوں کے دریا بہتے تھے۔

باب ہشتم: موجودہ فیصل آباد اور ورثے کی ذمہ داری

آج فیصل آباد ایک جدید شہر ہے۔ یہاں ڈرائی پورٹ ہے، بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے، متعدد یونیورسٹیاں اور کالج ہیں، بڑے بڑے ہسپتال ہیں اور شاپنگ مالز کھل گئے ہیں۔ لیکن شہر کا وہ پرانا چہرہ بدستور موجود ہے۔

گھنٹہ گھر سے لے کر نہر کے کنارے تک، پرانے بازاروں سے لے کر حویلیوں تک، یہ پورا شہر صرف اینٹ اور پتھر کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ تاریخ ہے۔

پرانے لوگ آج بھی جب آپس میں ملتے ہیں تو وہ "لالہ” اور "جی” کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی خیریت پوچھتے ہیں، بیماری پر ملنے جاتے ہیں اور خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کا خیال رکھنا آج بھی اس شہر کی پہچان ہے۔

لیکن خطرہ بھی ہے۔ نئی نسل ان اقدار سے دور ہو رہی ہے۔ ٹیکنالوجی نے لوگوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔ پرانی عمارتیں منہدم ہو رہی ہیں اور ان کی جگہ فلیٹ اور پلازے بن رہے ہیں۔ نہر بھر دی گئی ہے اور اس کی جگہ سڑکیں بن گئی ہیں۔

ہمیں سوچنا ہوگا کہ کہیں ہم اپنا ورثہ تو نہیں کھو رہے۔ یہ شہر صرف ایک جغرافیائی وجود نہیں بلکہ ایک تہذیب ہے۔ اس کی گلیاں، اس کے بازار، اس کے لوگ اور ان کی باتیں سب مل کر اس شہر کی پہچان ہیں۔

اختتام

فیصل آباد یا لائل پور ایک ایسی زندہ تاریخ ہے جس نے نہر کے کنارے آباد ہونے والی تہذیب سے لے کر آٹھ بازاروں کے ذریعے متحد ہونے والی ثقافت، پھر ٹیکسٹائل ملز کے ذریعے پوری قوم کی معاشی ریڑھ کی ہڈی بننے، اور آخر میں قوالی کی روحانی بلندیوں اور سٹیج کی عامیانہ لطافتوں کے امتزاج کا سفر طے کیا ہے۔

یہ شہر ان لوگوں کی کہانی سناتا ہے جو یہاں آ کر بسے، جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے اسے بسایا، جنہوں نے اسے آباد کیا۔ یہ شہر ان فنکاروں کی داستان سناتا ہے جن کی آواز نے دنیا کو مسحور کر دیا۔ یہ شہر ان صنعتکاروں کی کہانی سناتا ہے جن کی محنت نے پاکستان کی معیشت کو سنبھالا۔

اور سب سے بڑھ کر یہ شہر اس اعتبار کی کہانی سناتا ہے جو آج کے دور میں شاید ہی کہیں ملے۔ پرانے اعتبار کی زمین، لائل پور۔ جب آپ اگلی بار فیصل آباد جائیں تو گھنٹہ گھر کے سائے میں کھڑے ہو کر ایک بار اس شہر کی خاموش گلیوں میں گھومیے۔ وہاں کی ہواؤں میں آپ کو لائل پور سانس لیتا محسوس ہوگا۔