تعارف
اُردُو زبان نے عربی سے بے شمار الفاظ لیے ہیں — خصوصاً وہ مصادر جو تین حرفی (سہ حرفی) ہیں۔ ان مصادر کو صحیح تلفظ
کے ساتھ ادا کرنا فصاحت اور معنی کی درستگی کے لیے ضروری ہے۔ یہ مضمون پہلے تین بنیادی اوزان (فَعْل، فِعْل،
فُعْل) کی وضاحت کرتا ہے، پھر اوزانِ مزید فیہ کا تفصیلی تعارف پیش کرتا ہے جو اردو میں عام مستعمل ہیں۔
باب اول: مصادر ثلاثی مجرد (تین حرفی بنیاد)
عربی میں جب فعل کے تین حروف اصلی ہوں اور کوئی حرف زائد نہ ہو تو اسے فعل مجرد کہتے ہیں۔ اردو میں تین اوزان
سب سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں:
١. وزن فَعْل (پہلے حرف پر زبر)
پہلا حرف مفتوح (زبر)، دوسرا اور تیسرا ساکن۔
مثالیں: صَبر، عَرض، قَرض، فَرض، شَکل، شَرط، شَرح، طَرح، فَتح، ہَرج، جَمع، رَفع، وَضع، حَذف، فَرق، دَخل، فَضل، خَتم، ہَضم، حَجم، غَلط، سَمت، نَفل
توجہ: زبر واضح کریں، مثلاً فَرض (فَتحہ کے ساتھ) نہ کہ فِرض۔
٢. وزن فِعْل (پہلے حرف پر زیر)
پہلا حرف مکسور (زیر)، دوسرا اور تیسرا ساکن۔
مثالیں: اِذن، عِلم، حِلم، صِدق، ذِکر، فِکر، نِڈر، عِطر، مِٹی، مِثل
توجہ: زیر کی ادائیگی لازم: عِلم (عین زیر)، فِکر۔
٣. وزن فُعْل (پہلے حرف پر پیش)
پہلا حرف مضموم (پیش)، باقی ساکن۔
مثالیں: عُمر، فُرق، حُکم، عُذر، شُکر، صُلب، جُزء، طُرف، بُخل، رُتب
توجہ: پیش کو پہچانیں: حُکم ≠ حَکم (معنی میں فرق ہو سکتا ہے)۔
🔹 نکتہ: ان تینوں میں صرف پہلے حرف کی حرکت فرق کرتی ہے۔ اردو میں صحیح تلفظ کے لیے زبر، زیر، پیش کا لحاظ ضروری ہے — خصوصاً دینی متون، کلاسیکی شاعری اور علمی مباحث میں۔
باب دوم: اوزانِ مزید فیہ
جب تین حرفی اصل میں ایک یا زیادہ حروف زائدہ لگا کر نیا وزن بنایا جائے تو اسے "فعل مزید فیہ” کہتے ہیں۔ ذیل میں
اہم ترین اوزانِ مزید فیہ مثالیں دے کر بیان کیے گئے ہیں۔
١. وزن اِفْعَال (افعال)
- اِعْلَام (عِلم سے) – آگاہی
- اِنْذَار (نَذْر سے) – ڈر سنانا، اطلاع
- اِکْرَام (کَرْم سے) – عزت کرنا
- اِسْتِقْبَال (قُبْل سے) – استقبال (استفعال)
٢. وزن تَفْعِیل (تفعیل)
- تَعْلِیم (عِلم سے) – سکھانا، تعلیم
- تَکْلِیم (کَلام سے) – گفتگو کرنا
- تَشْرِیح (شَرَح سے) – کھول کر بیان کرنا
- تَقْدِیر (قَدْر سے) – اندازہ لگانا، قدر کرنا
٣. وزن مُفَاعَلَہ (مفاعلہ)
- مُطَالَعَہ (طَلَع سے) – مطالعہ، پڑھنا
- مُبَاحَثَہ (بَحَث سے) – بحث کرنا
- مُشَارَکَت (شَرَک سے) – حصہ داری
٤. وزن اِفْتِعَال (افتعال)
- اِجْتِمَاع (جَمَع سے) – جمع ہونا، اجتماع
- اِنْتِظَام (نَظَم سے) – ترتیب، انتظام
- اِخْتِلَاف (خَلَف سے) – فرق ہونا
٥. وزن اِسْتِفْعَال (استفعال)
- اِسْتِعْمَال (عَمَل سے) – استعمال
- اِسْتِقْبَال (قُبْل سے) – استقبال
- اِسْتِفَادَہ (فَیْد سے) – فائدہ اٹھانا
٦. وزن اِنْفِعَال (انفعال)
- اِنْفِعَال (فَعَل سے) – جذباتی ہونا، انفعال
- اِنْکِسَار (کَسَر سے) – ٹوٹنا، انکسار
- اِنْطِبَاع (طَبَع سے) – چھپنا، اثر قبول کرنا
📘 مزید فیہ کی اہمیت: یہ اوزان اردو کے علمی، ادبی اور روزمرہ ذخیرۂ الفاظ کا بڑا حصہ ہیں۔ ان کے صحیح تلفظ کے لیے ضروری ہے کہ زائد حروف کی حرکات اور اصلی حروف کی ادائیگی کو مدنظر رکھا جائے۔
تلفظ کی مشق کے لیے بنیادی ہدایات
| اصطلاح | وضاحت |
| زبر (فتحہ) | حرف کو کھلا پڑھنا — بَ، تَ، سَ |
| زیر (کسرہ) | حرف کو نیچے سے ملا کر پڑھنا — بِ، تِ، سِ |
| پیش (ضمہ) | ہونٹ گول کر کے پڑھنا — بُ، تُ، سُ |
| تشدید | حرف کو دوہرا کر کھینچنا — مثلاً تَعْلِیم میں لام مشدد |
| مد (الف، واو، یا) | حروفِ مدہ کو کھینچ کر پڑھنا — اِجْتِمَاع میں الفِ مد |
اختتام: صحیح تلفظ کی جانب سفر
عربی مصادر کا درست تلفظ اردو کی فصاحت و بلاغت کی بنیاد ہے۔ پہلے تین بنیادی اوزان (فَعْل، فِعْل، فُعْل) ذہن نشین
کر لیں، پھر رفتہ رفتہ اوزانِ مزید فیہ کی مشق کریں۔ قرآنِ کریم کی تلاوت، معتبر لغات اور کلاسیکی شعرا کا مطالعہ اس راہ میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
اُردُو الفاظ کا درست تلفظ کیسے ممکن ہے؟ جاننے کے لیے کلک کریں۔
یہ مضمون "سلسلہ اِصلاحِ تلفظ ” کا حصہ ہے —آپ کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے، آئندہ قسطوں میں اسم فاعل، اسم مفعول اور
دیگر صرفی پہلوؤں پر روشنی ڈالی جائے گی ان شاء اللہ۔


