ہماری قومی زبان کے مستقبل کا اہم سوال:

پاکستان میں اردو ہماری قومی زبان ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ تعلیمی نظام میں اسے وہ مقام حاصل نہیں جو ہونا چاہیے۔ آج کے طلبہ خصوصاً اعلیٰ ثانوی سطح کے طلبہ اکثر یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ جب انہیں انجینئر، ڈاکٹر یا کسی پیشہ ورانہ شعبے میں جانا ہے تو پھر اردو پڑھنے کی کیا ضرورت ہے۔

یہ سوال دراصل ہمارے تعلیمی نظام کی ایک بڑی کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ اردو کو اکثر طلبہ صرف ایک امتحانی مضمون سمجھتے ہیں اور اسے بوجھ محسوس کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال کی کئی وجوہات ہیں، مگر سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اعلیٰ اور پیشہ ورانہ تعلیم کا ذریعہ زیادہ تر انگریزی زبان ہے۔

پیشہ ورانہ تعلیم اور قومی زبان:

دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں پیشہ ورانہ تعلیم اپنی قومی زبان میں دی جاتی ہے۔ ان ممالک نے برسوں کی محنت سے سائنسی اور فنی علوم کو اپنی زبانوں میں منتقل کیا اور اپنی زبان کو علم کا ذریعہ بنایا۔

ہمارے ملک میں بھی کچھ ادارے اردو میں علمی مواد تیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر ان کی کوششیں ابھی تک اس سطح تک نہیں پہنچ سکیں کہ اردو کو عملی طور پر اعلیٰ تعلیم کا ذریعہ بنایا جا سکے۔ نتیجہ یہ ہے کہ طلبہ کے ذہن میں یہ تصور پیدا ہو گیا ہے کہ کامیابی کے لیے صرف انگریزی ہی ضروری ہے۔

اردو کی تدریس کے بنیادی مقاصد:

ابتدائی اور ثانوی درجوں میں اردو کی تعلیم لازمی ہوتی ہے۔ عام طور پر اس کے بنیادی مقاصد یہ سمجھے جاتے ہیں:

  1. اردو بولنا سکھانا
  2. اردو پڑھنا سکھانا
  3. اردو لکھنا سکھانا
  4. اردو کو سمجھنا

ایک طالب علم تقریباً دس سال تک تعلیم حاصل کر کے ان چار بنیادی مہارتوں کو حاصل کر لیتا ہے۔ اس کے بعد وہ اعلیٰ درجوں میں اردو پڑھنے سے گریز کرنے لگتا ہے کیونکہ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے پیشہ ورانہ مستقبل میں اردو کا کوئی کردار نہیں۔

اگر پیشہ ورانہ تعلیم کا ذریعہ اردو ہو تو یہ صورتحال یکسر بدل سکتی ہے۔ تب طلبہ جوں جوں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے، اردو کے ساتھ ان کی دلچسپی بھی بڑھتی جائے گی۔

ہمارے نظامِ تعلیم کا بنیادی مسئلہ:

اردو کی تدریس کا ایک بڑا مسئلہ ہمارا موجودہ نظامِ تعلیم بھی ہے۔ یہ نظام ایک ایسے طبقاتی تعلیمی ڈھانچے کو جنم دیتا ہے جس میں ایک طرف انگریزی میڈیم ادارے ہیں اور دوسری طرف عام تعلیمی ادارے۔

اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علامہ محمد اقبالؒ نے فرمایا تھا:

“اور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم

ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف”

یہ نظام معاشرے میں فکری اور تعلیمی تقسیم پیدا کرتا ہے۔ طاقتور طبقہ اپنے بچوں کو ایسے اداروں میں تعلیم دلاتا ہے جہاں غیر ملکی زبان اور نظریات غالب ہوتے ہیں، جبکہ عام طبقہ ایسے تعلیمی اداروں تک محدود رہ جاتا ہے جہاں وسائل بھی کم ہوتے ہیں اور مواقع بھی۔

نظریۂ پاکستان اور اردو کی اہمیت:

پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے جس کے قیام میں دو بنیادی عناصر شامل تھے:

  • دینِ اسلام
  • اردو زبان

اگر ان میں سے کسی ایک عنصر کو نظر انداز کیا جائے تو قومی نظریہ کمزور ہو جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اردو کو صرف ایک مضمون کے طور پر نہیں بلکہ قومی تشخص کے اظہار کے ذریعے کے طور پر فروغ دیا جائے۔

نصابی کتب کے مسائل:

اردو کی تدریس میں ایک اہم مسئلہ نصابی کتب کا معیار بھی ہے۔ اکثر درسی کتابیں جلد بازی میں تیار کی جاتی ہیں اور ان میں واضح تعلیمی مقصد نظر نہیں آتا۔

مثلاً:

  • بعض اسباق طلبہ کی ذہنی سطح سے زیادہ مشکل ہوتے ہیں۔
  • بعض مقامات پر ایسے موضوعات شامل ہوتے ہیں جو طلبہ میں الجھن پیدا کرتے ہیں۔
  • املا اور کمپوزنگ کی غلطیاں بھی عام ملتی ہیں۔

یہ تمام عوامل طلبہ کے اندر اردو سے دلچسپی پیدا کرنے کے بجائے اسے ایک مشکل اور غیر ضروری مضمون بنا دیتے ہیں۔

اساتذہ کا کردار:

اساتذہ کی شخصیت طلبہ کے لیے ایک نمونہ ہوتی ہے۔ اگر استاد خود غیر معیاری گائیڈز پر انحصار کریں اور طلبہ کو بھی انہی کی طرف راغب کریں تو طلبہ کے اندر زبان اور ادب سے حقیقی محبت پیدا نہیں ہو سکتی۔

اردو کی تدریس کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اساتذہ خود معیاری مطالعہ اور تخلیقی تدریس کو فروغ دیں۔

تدریسِ اردو کے نئے مقاصد:

جدید قومی تقاضوں کے مطابق اردو کی تدریس کے چند اہم مقاصد یہ ہو سکتے ہیں:

  1. طلبہ کو اردو بولنا، پڑھنا اور لکھنا سکھانا
  2. اظہارِ خیال کی صلاحیت پیدا کرنا
  3. ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ کرنا
  4. غور و فکر اور مطالعہ کا شوق پیدا کرنا
  5. اردو زبان و ادب کی قدر پیدا کرنا
  6. تخلیقی اور ادبی صلاحیتوں کو ابھارنا
  7. قومی یکجہتی اور پاکستانیت کو فروغ دینا
  8. دینی اور اخلاقی اقدار کو مضبوط کرنا
  9. معاشرتی زندگی میں سہولت پیدا کرنا
  10. قومی کردار کی تشکیل کرنا
  11. علمی اور ادبی سرمایہ محفوظ رکھنا

نتیجہ:

اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہماری تہذیب، تاریخ اور قومی شناخت کا مظہر ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نئی نسل اپنی تہذیبی بنیادوں سے جڑی رہے تو ہمیں اردو کی تدریس کو جدید تقاضوں کے مطابق مضبوط بنانا ہوگا۔

آخر میں علامہ اقبال کے یہ اشعار اس حقیقت کو خوب واضح کرتے ہیں:

  • زندگی کچھ اور شے ہے، علم ہے کچھ اور شے
  • زندگی سوزِ جگر ہے، علم ہے سوزِ دماغ
  • علم میں دولت بھی ہے، قدرت بھی ہے لذت بھی ہے
  • ایک مشکل ہے کہ ہاتھ آتا نہیں اپنا سراغ