قدیم بار کی تاریخی و تہذیبی داستان
مقدمہ: گھنے جنگلوں کا خطہ
راوی اور چناب کے درمیان پھیلا ہوا علاقہ، جسے رچنا دوآب کہا جاتا ہے، کبھی ایسے گھنے جنگلات پر مشتمل تھا جنہیں مقامی زبان میں “بار“ کا نام دیا جاتا ہے-ایسا خطہ جہاں نہروں کا کوئی نظام موجود نہیں تھا اور زندگی بارانی پانیوں کے سہارے قائم تھی۔ یہی وہ سرزمین ہے جسے ساندل بار کے نام سے جانا جاتا ہے。 یہ خطہ تقریباً 80 کلومیٹر چوڑائی (مغرب سے مشرق) اور 40 کلومیٹر لمبائی (شمال سے جنوب) پر پھیلا ہوا تھا, جس کا بیشتر حصہ ضلع جھنگ میں واقع تھا۔
ساندل بار صرف جغرافیائی حدود کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی ثقافت کا مرکز تھا جہاں پنجابی قبائل نے صدیوں تک ایک ہی زبان، ایک ہی رسم و رواج اور خونی رشتوں کے دھاگے میں پروئے رہنے کی روایت قائم رکھی۔
رازِ نام: “ساندل“ کی تین روایات
لفظ “بار“ کے معانی تو گھنے جنگلات کے ہیں، مگر یہ خطہ “ساندل“ کے نام سے کیوں مشہور ہوا؟ اس حوالے سے تین مختلف روایات پائی جاتی ہیں:
پہلی روایت کے مطابق، ساندل دراصل پنجابی رہنما دلا بھٹی کے دادا بجلی خان کا عرفی نام تھا [18†L7-L12] ۔ دوسری روایت میں شاہکوٹ کی پہاڑیوں کے ایک ڈاکو سردار کو ساندل کہا جاتا تھا، جبکہ تیسری روایت میں مقامی جنگل کے چوہڑوں کے سردار چوہڑ خان کو ساندل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ایک اور معروف قول یہ بھی ہے کہ یہاں کبھی ساندل کے درخت کثرت سے پائے جاتے تھے، جس کی وجہ سے یہ خطہ ساندل بار کہلایا۔ ان روایات میں سے جو بھی سچی ہو، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ نام بہادری، مزاحمت اور بے باکی کی علامت بن گیا۔
قدیم قبائل: خون، زمین اور اقدار
برطانوی آمد سے قبل ساندل بار وسیع چراگاہوں اور گھنے جنگلات پر مشتمل تھا، جہاں مختلف قبائل اپنی اپنی حدود میں آزادانہ زندگی بسر کرتے تھے۔
کھرل قبیلہ اس خطے کا سب سے بااثر اور طاقتور قبیلہ تھا。کھرل دراصل ایک مسلمان راجپوت قبیلہ ہے جو اگنیکول شاخ سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کے آبا و اجداد مہابھارت کے legendary کردار کرن سے جا ملتے ہیں۔ تیرہویں صدی میں بھوپا نامی جدِ امجد اچ شریف آیا، جہاں مخدوم جہانیاں شاہ کے ہاتھوں اس نے اور اس کے بیٹے کھرل نے اسلام قبول کیا。 کھرلوں نے نہ صرف ساندل بار کے شمالی حصے پر اپنا غلبہ قائم کیا، بلکہ کاٹھیاؤں، وتّوؤں اور فتیانہ جیسے دیگر قبائل کے ساتھ ان کے معرکے اس خطے کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ ایک وقت آیا جب رائے احمد خان کھرل نے ساری ساندل بار پر اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیا تھا。
بھٹی قبیلہ بھی اسی بار کا اہم حصہ تھا。بھٹی راجپوتوں کی حکمرانی کا سلسلہ 1332 عیسوی سے چلا آ رہا تھا [5†L34-L37]۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کھرل اور بھٹی قبائل کے درمیان اقتدار کی کشمکش نے اس خطے کی سیاسی راہوں کا تعین کیا۔
ان قبائل کے علاوہ واگھا، سیال، کاٹھیہ، وتّو اور دیگر بہت سے قبائل بھی ساندل بار میں آباد تھے اور سب کی ایک مشترکہ پنجابی ثقافت تھی جو انہیں ایک دوسرے سے باندھے رکھتی تھی۔
قومی ہیرو: وہ سپوت جنہوں نے ظلم کے خلاف علم باندھا
رائے عبداللہ بھٹی ؒ (دُلا بھٹی): مغل ظلم کے خلاف پہلی آواز
سولہویں صدی کا وہ دور تھا جب مغل بادشاہ اکبر کے ظالمانہ ٹیکسوں اور زمینی محصولات نے کسانوں کا جینا حرام کر رکھا تھا۔ ایسے میں ساندل بار کے پنڈی بھٹیاں سے تعلق رکھنے والے رائے عبداللہ خان بھٹی نے نہ صرف ٹیکس دینے سے انکار کیا بلکہ اپنے علاقے میں غریبوں اور مظلوموں کی حمایت کی。
دلا بھٹی کی شجاعت کی داستانیں پنجابی لوک گیتوں میں آج تک زندہ ہیں۔ مشہور ہے کہ مرزا نظام الدین نے سولہ ہزار سپاہیوں کی فوج لے کر ساندل بار کا محاصرہ کر لیا اور عورتوں کو گرفتار کر لیا، جن میں دلا کی والدہ مائی لدھی اور بیویاں شامل تھیں۔ دلا بھٹی نے خبر پاکر انہی قدموں دشمن پر حملہ کر دیا اور ان کی فوج کو ملیامیٹ کر دیا۔
افسوس کہ یہی بہادر سپوت بالآخر دھوکے سے گرفتار ہوا۔ 26 مارچ 1599ء کو لاہور میں اسے سزائے موت دے دی گئی [5†L5-L7][16†L22]۔ لیکن اس کی قربانیوں کو بھلایا نہ جا سکا۔ آج بھی پنجاب میں لوہڑی کے تہوار پر “لے کے دھیاں دلا توں منگن“ کا نعرہ اس عظیم رہنما کی یاد تازہ کرتا ہے[5†L41-L42][6†L22-L24]۔
رائے احمد خان کھرل ؒ: انگریز کے خلاف آخری علمبردار
سنہ 1849ء میں جب انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کیا تو ساندل بار کا علاقہ بے آب و گیاہ تھا۔ ہر طرف ریت کے ٹیلے اور ببول کے درخت تھے [17†L3-L5]۔ انگریز نے صرف آٹھ سال کے عرصے میں زمینداروں کا مالیہ کم کر کے اپنے لیے ان کے دلوں میں جگہ بنا لی تھی، مگر اس خطے کا ایک شخص تھا جس نے بغاوت کا شعلہ بھڑکا دیا – اور وہ تھا رائے احمد خان کھرل【17†L19-L24】。
احمد خان کھرل تقریباً 1776ء میں گاؤں جھامرا (موجودہ چک 434 جی بی، تاندلیانوالہ) میں پیدا ہوا۔ وہ کھرل قبیلے کا سردار اور بڑا جاگیردار تھا، جسے “نواب جھامرا“ کے خطاب سے بھی نوازا گیا تھا۔ سنہ 1857ء میں جب جنگ آزادی کا شعلہ بھڑکا تو 80 سالہ بوڑھا احمد خان انگریز کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے گوگیرہ جیل (موجودہ ضلع اوکاڑہ) پر حملہ کر کے اپنے ساتھیوں کو رہا کرانے کا منصوبہ بنایا، لیکن انگریز اسسٹنٹ کمشنر لارڈ برکلے نے اسے دھوکے سے عصر کی نماز پڑھتے ہوئے شہید کر دیا [3†L4-L8]۔
تاریخ دان لکھتے ہیں کہ اگر راوی کی روایت کو کسی کھرل پر فخر ہے تو وہ رائے احمد خان کھرل ہے, جس نے برصغیر پر قابض انگریز سامراج کی بالادستی کو کبھی تسلیم نہ کیا。 آج احمد خان کھرل کی قبر جھامرا میں زیارت گاہ ہے، اور وہ پنجاب کا لوک ہیرو تصور کیا جاتا ہے。
شہیدِ اعظم بھگت سنگھ: جدید دور کا انقلابی باب
جب ساندل بار کی سرزمین مزاحمت کی نئی لہر کی منتظر تھی تو یہیں بنگے گاؤں (جڑانوالہ سے نو کلومیٹر) نے ایک ایسے مجاہد کو جنم دیا جس نے برصغیر کے انقلابیوں کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔
بھگت سنگھ ساندل بار کے اسی خطے میں پیدا ہوا اور نوجوانی میں ہی انگریز کے خلاف مسلح جدوجہد کا راستہ اپنایا。 وہ نہ صرف ایک سپاہی تھا بلکہ ایک بہت بڑا دانشور بھی تھا۔ اس نے سوشلسٹ انقلاب کا خواب دیکھ کر اپنی قربانی دے کر ساری دنیا کو دکھا دیا کہ ایک نوجوان اپنے وطن کی آزادی کے لیے کیا کچھ کر سکتا ہے۔
کہتے ہیں کہ ان تینوں حکمرانوں کے خلاف بغاوت کی تین مختلف روایتیں ہیں؛ مگر ان کا مقصد ایک تھا: وطن کی حریت اور مظلوموں کی حمایت。
انگریز کی آمد: نہری انقلاب سے آبادی تک
جب انگریز نے پنجاب پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تو اس نے توجہ دی اس علاقے کی طرف جو صدیوں سے خشک اور بے آب رہ چکا تھا۔
نہروں کا جال:1892ء میں انگریز حکومت نے چناب کالونی کا آغاز کیا。 لوئر چناب نہر کے ذریعے چناب کے پانی کو اس خشک بار کی طرف موڑا گیا اور 1892ء میں پہلی مرتبہ نہروں میں پانی چھوڑا گیا۔ رکھ برانچ، گوگیرہ برانچ اور جھنگ برانچ کھود کر پورے علاقے کو سیراب کیا گیا。 چناب کینال کو برصغیر کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ منافع بخش نہر قرار دیا گیا。
آبادی کاری: جب زمین زرخیز بن گئی تو انگریز نے مشرقی پنجاب (ہوشیار پور، جالندھر، لدھیانہ، امرتسر) کے تجربہ کار کسانوں کو بلا کر انہیں مراعات دے کر یہاں آباد کیا۔ کسانوں کو خاندانی کھیتوں کی صورت میں زمین دی گئی, جس سے اقتصادی تحفظ کا ایک نیا نظام وجود میں آیا۔ 1901ء میں چناب کالونی کی آبادی 791,861 تھی。 یہ آبادکاری اپنی نوعیت کی ایک منفرد مثال تھی جسے بعد میں دوسرے علاقوں کے لیے ماڈل بنایا گیا۔
لائل پور کی بنیاد: 1896ء میں رکھ برانچ کے ایک گاؤں چک نمبر 212 ر ب کو نئے شہر کی بنیاد کے لیے چنا گیا۔
لائل پور (فیصل آباد): ایک خواب جو شہر بن گیا
جس زمین پر کبھی صحرا تھا اور ویرانیاں تھیں، وہاں اٹھا ایک خوبصورت شہر۔ جھنگ کے ڈپٹی کمشنر نے پنجاب کے گورنر سر جیمز براڈووڈ لائل کو تجویز دی کہ یہاں ایک شہر بنایا جائے۔
یونین جیک کا ڈیزائن: اس تاریخی شہر کا خواب کیپٹن پوفن ینگ نے دیکھا۔ اس نے اس شہر کا نقشہ برطانوی جھنڈے “یونین جیک“ کی طرز پر تیار کیا。 گھنٹہ گھر اس شہر کا مرکز بنا اور اس سے نکلنے والی آٹھ لائنیں شہر کی آٹھ مشہور بازاروں میں ڈھل گئیں。
آٹھ بازار اور گھنٹہ گھر: ان تمام بازاروں کو آپس میں جوڑنے کے لیے گول بازار بنایا گیا اور پورے شہر کے گرد سرکلر روڈ تعمیر کیا گیا۔ اس منصوبہ بندی نے لائل پور کو برصغیر کا ایک خوبصورت ترین شہر بنا دیا۔
ینگ والا: پوفن ینگ کو ان کی خدمات کے صلے میں زمین انعام میں دی گئی، جہاں آج زرعی یونیورسٹی موجود ہے۔ یہاں کا علاقہ آج بھی “ینگ والا“ کہلاتا ہے اور اس یونیورسٹی کی بنیاد پہلے برصغیر کے پہلے زرعی کالج کے طور پر رکھی گئی تھی، جو پھر زرعی یونیورسٹی میں تبدیل ہو گیا۔
1902ء میں لائل پور کی آبادی صرف چار ہزار تھی اور 1904ء میں اسے ضلع کا درجہ دے دیا گیا۔ آج یہ فیصل آباد کہلاتا ہے اور یہ پاکستان کا تیسرا سب سے بڑا صنعتی اور زرعی شہر ہے。
انجینئرز کی کہانی: پوفن ینگ اور سر گنگا رام
لائل پور کی تعمیر میں دو بڑے انجینئرز کا کردار کلیدی تھا:
پوفن ینگ نے شہر کا نقشہ بنایا اور اسے اتنی عمدگی سے ڈیزائن کیا کہ آج بھی یہ شہر فن تعمیر کے حوالے سے مثال دیا جاتا ہے۔ انہیں انعام میں “ینگ والا“ دیا گیا۔
سر گنگا رام اس کے معاون تھے، مگر انہوں نے اپنی دی گئی زمین کو لینے سے انکار کر دیا۔ ان کی یہ سخاوت آج بھی مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔
حوالہ جات و مآخذ:
- Sandal Bar – Wikipedia (English), (Urdu, Punjabi)
- Rai Ahmad Khan Kharal – Wikipedia
- Dulla Bhatti – Wikipedia
- Encyclopædia Britannica (1911) – Chenab
- Pre-colonial insecurity – thenation.com.pk
- 1911 Encyclopædia Britannica/Chenab – Wikisource
- Sandalbar – DBpedia
- ساندل بار – HumSub
- محمد اقبال کی شاعری اور خطہ ساندل بار کی مزاحمت
اختتام: ورثے کی حفاظت ایک امانت
ساندل بار کی تاریخ صرف ماضی کا قصہ نہیں، یہ ہماری جڑوں کی پہچان ہے۔ جب ہم فیصل آباد کی تیز رفتاری، گھنٹہ گھر کے پارک اور جدید عمارتوں میں گم ہوتے ہیں تو ہم بھول جاتے ہیں کہ یہ زمین کبھی گھنے جنگلات پر مشتمل تھی، جہاں دلا بھٹی، احمد خان کھرل اور بھگت سنگھ جیسے بہادر سپوتوں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر ظلم کے خلاف علم بلند کیا۔
پرانی حویلیاں، ریل بازار کی پرانی دکانیں، کچہری بازار کے قدیم چائے خانے اور نہر کے کنارے وہ خاموش درخت – یہ سب لائل پور کی کہانیاں سناتے ہیں۔
ہمارا فرض ہے کہ ہم اس عظیم ورثے کو محفوظ کریں۔ تاریخ کی حفاظت صرف ایک فرض نہیں، ایک امانت ہے جو ہم نے اپنے بزرگوں سے لی ہے اور جسے آنے والی نسلوں تک پہنچانا ہے۔
آئیے، ہم سب مل کر اس امانت کو نبھائیں اور ساندل بار کی اس داستان کو قلمبند کریں تاکہ آنے والیاں نسلیں جانیں کہ یہ سرزمین کبھی کیسی تھی اور کیا کچھ اس نے دیکھا ہے۔
