لاہور: ایک زندہ کتاب
لاہور—یہ صرف ایک شہر نہیں، ایک زندہ کتاب ہے۔ ایک ایسی کتاب جس کے اوراق اینٹوں، گلیوں اور خاموش عمارتوں سے بنے ہیں۔ یہاں وقت رکتا نہیں، بلکہ تہہ در تہہ جمع ہوتا جاتا ہے۔ ہر موڑ پر ایک قصہ، ہر دیوار میں ایک صدا، اور ہر کھنڈر میں ایک ادھوری کہانی سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔
انہی کہانیوں میں ایک نام بار بار سنائی دیتا ہے— “چھجو دے چوبارے”
یہ محاورہ محض الفاظ کا کھیل نہیں، ایک کیفیت ہے۔ ایک ایسا احساس جسے بیان کرنے کے لیے صدیوں پہلے کسی نے کہا تھا:
“جو مزا چھجو دے چوبارے، نہ بلخ نہ بخارے”
مگر سوال یہ ہے کہ وہ “مزا” کیا تھا؟ وہ چوبارہ کہاں تھا؟ اور کیا وہ اب بھی کہیں موجود ہے، یا صرف یادوں کے دھندلکوں میں باقی رہ گیا ہے؟
کھوج: ایک گمشدہ نشان کی تلاش
اگر آپ میو ہسپتال کے وسیع و عریض احاطے میں داخل ہوں تو آپ کو جدید عمارتوں کا ایک بے ہنگم جنگل نظر آئے گا۔ یہاں زندگی کی دوڑ ہے، بیماری کا شور ہے، اور وقت کی بے رحم رفتار۔
ایسے میں اگر آپ کسی سے پوچھ بیٹھیں کہ “چھجو کا چوبارہ کہاں ہے؟” تو اکثر چہرے خالی نظروں سے آپ کو دیکھیں گے—جسیے آپ نے کسی خواب کا پتا پوچھ لیا ہو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ چھجو دے چوبارے کا خواب ابھی مرا نہیں۔ وہ کہیں نہ کہیں سانس لے رہا ہے۔
نسبت روڈ کی سمت، شمس شہاب الدین صحت گاہ کے قریب، ایک خاموش سا گوشہ ہے جہاں وقت جیسے تھم سا گیا ہو۔ وہیں، جدیدیت کے ہجوم میں چھپا ہوا، چھجو دے چوبارے کا وہ نشان آج بھی موجود ہے—بدلا ہوا، مگر زندہ۔
چھجو بھگت: دولت سے درویشی تک
چھجو بھگت—ایک ایسا نام جو لاہور کی روحانی تاریخ میں ایک پراسرار روشنی کی طرح جگمگاتا ہے۔ مغل شہنشاہ شاہجہان کے عہد میں وہ ایک خوشحال سنار اور تاجر تھا۔ دولت اس کے قدم چومتی تھی، مگر دل شاید کہیں اور بھٹک رہا تھا۔
پھر ایک دن اس نے سب کچھ چھوڑ دیا— زر، زیور، بازار، اور شہرت۔ وہ خاموشی سے درویشی کی راہ پر چل پڑا۔ یہی وہ درویشی تھی جس نے چھجو دے چوبارے کو وہ شہرت بخشی جو آج بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ میاں میر کی تعلیمات سے متاثر تھا، اور اسی اثر نے اسے دنیا سے کاٹ کر باطن کی دنیا میں داخل کر دیا۔
چوبارہ: تنہائی کا وہ آسمان
چھجو دے چوبارے کی یہ عمارت محض اینٹوں اور گارے کا ڈھانچہ نہیں تھی، یہ ایک تنہائی کا آسمان تھا—جہاں زمین سے کٹ کر آسمان سے رشتہ جوڑا جاتا تھا۔
اس مقام کی انفرادیت کے بارے میں کہا جاتا ہے:
- یہ چوبارہ بغیر سیڑھی کے تعمیر کیا گیا تھا۔
- چھجو ایک لکڑی کی سیڑھی کے ذریعے اوپر جاتا۔
- پھر اسے کھینچ کر اوپر رکھ لیتا۔
یہ عمل صرف احتیاط نہیں تھا، یہ دنیا سے قطع تعلق کا اعلان تھا۔ وہاں، اس خاموش کمرے میں، شاید وقت بھی ٹھہر جاتا ہوگا۔ وہیں بیٹھ کر اس نے وہ “مزا” پایا جسے بلخ و بخارا سے بھی برتر کہا گیا۔
روایت، روایت نہیں—افسانہ ہے
چھجو بھگت اور چھجو دے چوبارے کے گرد کئی کہانیاں گردش کرتی ہیں:
- ایک روایت کہتی ہے کہ اس نے ایک بوڑھی عورت کے لیے لاہور میں گنگا جاری کر دی۔
- ایک اور داستان کے مطابق وہ اچانک اسی چوبارے سے غائب ہو گیا۔
یہ سچ ہیں یا محض حکایات؟ کوئی نہیں جانتا۔ مگر یہ ضرور ہے کہ ان کہانیوں نے اسے ایک عام انسان سے بڑھ کر ایک اسطورہ (Legend) بنا دیا۔
تاریخ کی گواہی
برطانوی ادیب رڈ یارڈ کپلنگ نے اس مقام کو “راہداریوں اور مقبروں کی بھول بھلیاں” قرار دیا تھا۔ جبکہ رنجیت سنگھ کے دور میں چھجو دے چوبارے کا یہ علاقہ ایک باقاعدہ روحانی کمپلیکس کی شکل اختیار کر چکا تھا جس میں شامل تھے:
- مندر
- سمادھیاں
- مسافر خانے
یہ جگہ صرف عبادت کا مقام نہیں، بلکہ ایک ثقافتی اور روحانی مرکز تھی۔
زوال: جب وقت بے رحم ہو جائے
مگر وقت ہمیشہ مہربان نہیں رہتا۔ برطانوی دور کی تبدیلیاں، اور پھر جدید ترقی کے نام پر پھیلتی ہوئی عمارتیں— ان سب نے مل کر اس عظمت کو آہستہ آہستہ نگل لیا۔ میو ہسپتال کی توسیع نے اس وسیع کمپلیکس کو سمیٹ کر ایک مختصر سی یاد میں بدل دیا۔ آج وہ شان و شوکت نہیں، صرف ایک خاموش سا کمرہ باقی ہے۔
باقی ماندہ عکس: آج کا چوبارہ
آج یہ جگہ ایک مسجد کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اگر آپ چھجو دے چوبارے کے اندرونی حصے کو دیکھیں تو:
- چھت پر آئینے کا نفیس کام جھلملاتا دکھائی دیتا ہے۔
- جھروکے خاموشی سے ماضی کی جھلک دکھاتے ہیں۔
- دیواروں میں مغلیہ اور سکھ طرز تعمیر کا حسین امتزاج جھلکتا ہے۔
یہ سب دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت نے سب کچھ نہیں مٹایا— کچھ نشانیاں اب بھی ضد سے زندہ ہیں۔
اصل سوال: مزہ کہاں ہے؟
کیا وہ مزہ اس چوبارے میں تھا؟ یا اس کی تلاش میں؟ شاید جواب دونوں میں ہے۔ مگر زیادہ سچ یہ ہے کہ اصل مزہ اس ثقافتی ورثے اور چھجو دے چوبارے جیسی کھوئی ہوئی چیز کو ڈھونڈنے میں ہے۔ یہی تلاش انسان کو اس کے ماضی سے جوڑتی ہے، اور یہی جستجو اسے زندہ رکھتی ہے۔
سبق: ورثہ صرف ماضی نہیں، شناخت ہے
چھجو دے چوبارے کی یہ داستان ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے:
- تاریخ کو صرف پڑھا نہیں، محسوس بھی کیا جائے۔
- ورثہ صرف اینٹوں میں نہیں، یادوں میں بھی ہوتا ہے۔
- اور اگر ہم نے اسے نہ سنبھالا تو یہ ہمیشہ کے لیے کھو جائے گا۔
کیونکہ پھر “چھجو دے چوبارے” صرف ایک محاورہ رہ جائے گا— بے جان، بے احساس، اور بے نشان۔
اختتامیہ
لاہور آج بھی زندہ ہے، مگر اس کی روح ان ہی گمشدہ نشانیوں میں بسی ہوئی ہے۔ چھجو دے چوبارے کی روایت ان میں سے ایک ہے— ایک ایسا مقام جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وقت سب کچھ نہیں مٹاتا، کچھ چیزیں ہم خود بھلا دیتے ہیں۔


