ایک شگفتہ کہانی 😄

یہ مزاحیہ اردو کہانی دو ہزار چھ کی بات ہے، جب ہم نے جوائنٹ فیملی سسٹم سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا تو گویا پورا خاندانی نظام ہمارے خلاف کھڑا ہو گیا۔ چاچیاں، تائیاں سب ناراض… اور ناراضی بھی ایسی کہ ہمیں فرنٹ پورشن کے بجائے “سزا” کے طور پر گھر کے پچھلے حصے میں بھیج دیا گیا۔

بجلی کا بل آتا تو غائب کر دیا جاتا، اور جب تین ماہ بعد میٹر کاٹنے والے آتے تو ہمیں پتا چلتا کہ “حضور! اتنا بل بن چکا ہے!” پھر ترلے، منتیں، معافیاں… اور مشکل سے جان چھوٹتی۔

شادی کارڈ آتے تو تائی محترمہ ہماری طرف سے جواب بھجوا دیتیں:
“ہمیں کوئی واسطہ نہیں رکھنا آپ سے!”

نتیجہ؟ آدھے رشتے دار ناراض، دوستوں کی شادیاں مس، اور ہم بدنام کہ “یہی لوگ خاندان توڑنے والے ہیں!”

دادا جان اور لاہور کا تعلق

ہم بچپن سے دادا جان کے بہت قریب تھے۔ ان کے ساتھ اکثر لاہور جاتے رہتے تھے۔ دادا جان نے اپنی زندگی میں ہی اپنی پراپرٹی بیچ کر سب اولاد میں تقسیم کر دی تھی، لیکن لاہور کے چکر لگتے رہتے تھے۔

دادا جان کے انتقال کے بعد بھی میرا لاہور سے تعلق برقرار رہا… اور یہی تعلق ایک دن “خطرناک منصوبے” میں بدل گیا 😏

خفیہ خط اور پلان کی شروعات

ایک دن لاہور میں بیٹھے بیٹھے میرے ذہن میں ایک زبردست آئیڈیا آیا۔

ہم نے دادا کے ایک “فرضی دوست” کی طرف سے اپنے نام ایک خط لکھا:

“دادا کی ایک خفیہ دوکان ہے مال روڈ پر، جس کا کسی کو علم نہیں۔ فوراً لاہور پہنچیں، کیونکہ ریٹ لاکھوں تک پہنچ چکے ہیں!”

خط پوسٹ کیا… اور ہم واپس گاؤں۔

لالچ کا جادو

خط پہنچتے ہی اگلے دن تایا جان بوسکی کا سوٹ پہن کر لاہور روانہ!

دو دن بعد واپس… پھر اگلے ہفتے چچا جان اپنے دوست کے ساتھ لاہور پہنچ گئے۔

ایک مہینہ پٹوار خانوں اور تحصیلوں کے چکر لگاتے رہے… مگر دوکان کا کوئی نام و نشان نہیں!

آخر فیصلہ ہوا:

“خط اسے دو… اور اس کا پیچھا کرو!”

RAW کے ایجنٹ گھر میں! 😂

اب جو نگرانی شروع ہوئی تو لگتا تھا ہم کوئی جاسوس ہیں!

  • ہم سبزی لینے جائیں → چچا پیچھے
  • ہم پمپ پر جائیں → تایا پیچھے
  • فیس دینے جائیں → تائے کا سالا پیچھے

ہمیں احساس ہوا کہ ہم “ریکی” پر ہیں 😄

ہم بھی میدان میں

ہم نے بھی کھیل شروع کر دیا…

کلف لگے کپڑے پہن کر شہر کے چکر لگانے لگے، اور وہ بیچارے دھوپ میں کھڑے اندازے لگاتے:

“اب شاید لاہور کی بس پکڑے گا!”

لاہور آپریشن 😎

ایک دن میں صبح فجر کے وقت لاہور کے لیے نکلا۔

بس اسٹاپ پر کیا دیکھتا ہوں؟

تایا اور چچا چادر میں منہ چھپائے کھڑے ہیں 😂

بس آئی، ہم الگ الگ سوار ہوئے…

لاہور پہنچ کر میں اگلے دروازے سے اترا… وہ بھی اترے…

بس چلی تو میں پچھلے دروازے سے دوبارہ چڑھ گیا 😜

وہ رکشہ لے کر پیچھے!

لاہور کی سیر — مفت میں!

میں نے انہیں پورا لاہور گھمایا:

  • مینارِ پاکستان
  • سانپ اور نیولے کی لڑائی
  • حکیم کی دوائی
  • داتا دربار
  • لکشمی چوک

اور آخر میں پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل جا کر سو گیا…

اب اللہ جانے بزرگ کہاں سوئے 🤭

دوسرا خط — بنک اکاؤنٹ والا! 💸

واپسی پر ایک اور خط:

“دادا جی کا خفیہ بینک اکاؤنٹ، کروڑوں کی رقم!”

اس بار تو وہ ٹیکسی کروا کر لاہور گئے!

میں بنکوں میں معلومات لیتا رہا… اور وہ میرے پیچھے نوٹ بناتے رہے!

کہانی کا کلائمکس

گاؤں میں خبر پھیل گئی:

“یہ کروڑوں کا کھیل کھیل رہا ہے!”

میں نے سوچا:
“اب تو یہ مجھے مار ہی دیں گے!”

لہٰذا نئے خط پھاڑ دیے، اور گیٹ پر نیم پلیٹ اور ڈور بیل لگا دی 😄

نتیجہ: مزاحیہ اردو کہانی کا سبق

چچا لوگ دو سال تک دوکان اور رقم ڈھونڈتے رہے۔ آج بھی کبھی کوئی پوچھے تو جواب ملتا ہے: "ہمارا حق مار کر بھاگا ہوا ہے!” یہی اس پاکستانی مزاحیہ اردو کہانی کا اختتام ہے — "اگر یہ حرام ہے تو اتنا مزہ کیوں آیا؟ 😄