کنہیا لال کپور کے اسلوب میں
تمہید: قدیم و جدید کا تصادم
ادبِ عالیہ اور تاریخِ تصوف کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلے زمانے میں پیر بننا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔ برسوں کی ریاضت، تپتی دھوپ میں چلہ کشی، اور پیٹ پر پتھر باندھ کر معرفت کی تلاش کرنی پڑتی تھی۔ تب کہیں جا کر کسی اللہ کے بندے کو یہ منصب ملتا تھا کہ وہ لوگوں کی اصلاح کر سکے۔ مگر صدقے جائیے اس "ڈیجیٹل انقلاب” کے، جس نے پیری مریدی کے اس مشکل ترین مینوفیکچرنگ پروسیس کو "انسٹنٹ کافی” کی طرح آسان بنا دیا ہے۔ اب پیر بننے کے لیے نہ تو علم کی ضرورت ہے، نہ حلم کی، اور نہ ہی کسی بیاباں میں جا کر جوگ لینے کی حاجت۔ بس ایک عدد اسمارٹ فون، فل سپیڈ انٹرنیٹ اور تھوڑی سی اداکاری کی ضرورت ہے، اور لیجیے! آپ کا آستانہ فیس بک کے سرور پر تیار ہے۔
ڈیجیٹل پیر: ظاہری و باطنی ٹیکنالوجی
قدیم دور کے پیر صاحب کی پہچان ان کا عصا، تسبیح اور پرانی دستار ہوتی تھی۔ آج کے "پیر صاحب 2.0” کی پہچان ان کا "گیجٹ” ہے۔ ان کے ہاتھ میں تسبیح کے دانوں کے بجائے "ٹچ اسکرین” ہوتی ہے، جس پر وہ ذکرِ الٰہی کے بجائے اپنے "ویوز” اور "شیئرز” گنتے ہیں۔ ان کا مصلّٰی ریشم کا نہیں بلکہ گرین اسکرین (Green Screen) کا بنا ہوتا ہے، جس کے پیچھے وہ اپنی مرضی سے کبھی مکے کی تصویر لگاتے ہیں اور کبھی مدینے کی، حالانکہ خود وہ اپنے بیڈروم میں بیٹھ کر ایئر کنڈیشنر کے نیچے "فیض” تقسیم کر رہے ہوتے ہیں۔
ان پیروں کا اسلوبِ بیان بھی کنہیا لال کپور کے کرداروں کی طرح نہایت دلچسپ ہے۔ وہ بات "کشف” کی کرتے ہیں لیکن ان کی نظریں "کیمرہ لینز” پر ہوتی ہیں۔ وہ مریدوں کو دنیا تیاگنے کا درس دیتے ہیں، مگر خود ان کا آئی فون ہر چھ ماہ بعد اپ گریڈ ہو جاتا ہے۔ ان کی تقریر میں سوز و گداز سے زیادہ "ساؤنڈ ایفیکٹس” کا کمال ہوتا ہے۔ جب وہ دعا مانگتے ہیں تو پیچھے لگایا گیا "ایکو” (Echo) کا اثر مریدوں کو یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہوتا ہے کہ یہ آواز براہِ راست عرشِ بریں سے ٹکرا کر واپس آ رہی ہے۔
مریدِ باصفا: سبسکرائبر سے فالوور تک کا سفر
پہلے زمانے میں مرید وہ ہوتا تھا جو پیر کے اشارے پر اپنی جان مال قربان کر دیتا تھا۔ آج کا مرید وہ ہے جو پیر کی "ریل” (Reel) پر لائک اور کمنٹ کرنے کے لیے اپنا "ڈیٹا پیکج” قربان کر دیتا ہے۔ پہلے مرید پیر کے جوتے سیدھے کرتے تھے، اب مرید پیر کے "کمنٹ سیکشن” میں مخالفین کی ہڈیاں سیدھی کرتے ہیں۔
ان ڈیجیٹل مریدوں کی عقیدت کا معیار بڑا نرالا ہے۔ ان کے نزدیک پیر کی کرامت یہ نہیں کہ وہ بیمار کو شفا دے دے، بلکہ کرامت یہ ہے کہ پیر صاحب کی ویڈیو یوٹیوب پر "ٹرینڈنگ” میں آ جائے۔ اگر پیر صاحب کی ویڈیو پر دس لاکھ ویوز آ جائیں تو مریدوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے جیسے پیر صاحب کو براہِ راست خلافت مل گئی ہو۔ ان مریدوں کا حج و عمرہ بھی ڈیجیٹل ہے۔ وہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر عبادت کم اور "سیلفی” زیادہ لیتے ہیں، اور کیپشن میں لکھتے ہیں: "پیر صاحب کی دعا کا اثر ہے کہ آج میں یہاں ہوں”۔ حالانکہ کریڈٹ کارڈ کی قسطیں ابھی مرید کے ابا جی بھر رہے ہوتے ہیں۔
آن لائن نذرانہ: کیو آر کوڈ کی برکات
کنہیا لال کپور نے ایک جگہ لکھا تھا کہ دنیا میں سب سے مشکل کام کسی کی جیب سے پیسہ نکالنا ہے، مگر ڈیجیٹل پیروں نے اس مشکل کو بھی چٹکی بجا کر حل کر دیا ہے۔ قدیم پیروں کے پاس تو نذرانے میں گندم، باجرہ یا کوئی مرغی آتی تھی، مگر جدید پیر صاحب صرف "ہارڈ کیش” یا "ڈیجیٹل کرنسی” پر یقین رکھتے ہیں۔
ویڈیو کے نیچے چلنے والی پٹی پر لکھا ہوتا ہے: "آستانہ عالیہ کے اخراجات کے لیے عطیات اس اکاؤنٹ میں بھیجیں”۔ یہ ایک ایسا روحانی ٹیکس ہے جو مرید بڑی خوشی سے ادا کرتا ہے۔ مرید سمجھتا ہے کہ اس نے ایزی پیسہ (EasyPaisa) پر پانچ سو روپے بھیجے ہیں، تو گویا جنت میں اس کا ایک پلاٹ کنفرم ہو گیا ہے۔ پیر صاحب بھی بڑے رحیم واقع ہوئے ہیں، جتنا بڑا نذرانہ، اتنی لمبی دعا۔ اگر نذرانہ چھوٹا ہو تو پیر صاحب کا سافٹ ویئر بھی "بفرنگ” کرنے لگتا ہے اور دعا میں وہ تاثر نہیں رہتا۔
ڈیجیٹل کرامات: فوٹوشاپ اور اے آئی کا کمال
آج کل کے پیروں کی سب سے بڑی کرامت ان کا "گرافک ڈیزائنر” ہے۔ ایک معمولی سے انسان کو نورانی چہرے والا بزرگ بنانا اب صرف پانچ منٹ کا کام ہے۔ فوٹوشاپ کی برکت سے چہرے پر ایسا مصنوعی نور چھڑکا جاتا ہے کہ مرید دیکھ کر ہی وجد میں آ جاتا ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) نے تو پیری مریدی میں وہ انقلاب برپا کیا ہے کہ اب پیر صاحب کو خود بولنے کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ ان کی پرانی آوازوں کو لے کر نئے نئے فتوے اور دعائیں تیار کر لی جاتی ہیں۔
ایک کرامت جو آج کل بہت عام ہے، وہ ہے "غائبانہ حاضری”۔ پیر صاحب فیس بک پر لائیو آتے ہیں اور کمنٹ میں مرید لکھتا ہے: "حضور! میرا مسئلہ حل کر دیں”۔ پیر صاحب اسکرین کی طرف دیکھ کر پھونک مارتے ہیں، مرید اپنے موبائل کی اسکرین چومتا ہے اور سمجھتا ہے کہ روحانی آپریشن کامیاب ہو گیا۔ اس عمل میں وائرس موبائل میں آئے نہ آئے، مرید کے دماغ میں ضرور پختہ ہو جاتا ہے۔
سماجی تصادم اور ٹرولنگ
اگر کوئی عقل کا اندھا ان پیروں پر تنقید کر دے، تو مریدوں کی "سوشل میڈیا فورس” حرکت میں آ جاتی ہے۔ اسے "ڈیجیٹل جہاد” کا نام دیا جاتا ہے۔ گالیوں کا وہ طوفان بدتمیزی برپا ہوتا ہے کہ شیطان بھی پناہ مانگے۔ مرید کا منطق سادہ ہے: "پیر صاحب کی شان میں گستاخی کا مطلب ہے تم کافر ہو”۔ کنہیا لال کپور کے طنز کی طرح، یہاں بھی عقل کو تالا لگا دیا جاتا ہے اور جذبات کو اسمارٹ فون کی اسکرین پر پٹخ دیا جاتا ہے۔
اختتامیہ: بصیرت کی ضرورت
بات دراصل یہ ہے کہ ہم نے دین کو بھی ایک "پروڈکٹ” بنا دیا ہے اور پیر کو ایک "برانڈ”۔ کنہیا لال کپور اگر آج کے دور میں ہوتے تو شاید وہ اپنے مضمون "پیر و مرید” کا دوسرا حصہ لکھتے جس کا عنوان ہوتا "وائی فائی والے پیر”۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ روحانیت اسمارٹ فون کے لینز میں نہیں، دل کی گہرائیوں میں ہوتی ہے۔ معرفت کی منزل "سبسکرائب” کے بٹن سے نہیں، بلکہ عملِ صالح سے ملتی ہے۔
لیکن صاحب! اس بھری پری دنیا میں جہاں ہر شخص شارٹ کٹ کی تلاش میں ہے، وہاں ڈیجیٹل پیر سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے؟ نہ وضو کی ضرورت، نہ مصلے کی حاجت۔ بس لیٹے لیٹے اسکرول کریں، لائک کریں اور اپنی عاقبت سنوارنے کا وہم پال لیں۔ آخر کار، مرید بھی تو وہی ہے جو پیر کو پیر مانے، چاہے وہ پیر اصل ہو یا صرف "پکسلز” (Pixels) کا مجموعہ!


