اُردُو کے پہلے ناول نگار: مولوی نذیر احمد اور ان کا ناول "مراۃ العروس”
تعارف
اردو زبان میں ناول نگاری کا باقاعدہ آغاز مولوی نذیر احمد کی تحریروں سے ہوتا ہے۔ ناقدین کی اکثریت نے انہیں اردو کا پہلا ناول نویس تسلیم کیا ہے، کیونکہ ان کے ناول ناول نگاری کے فنی لوازمات پر پورے اترتے ہیں۔ انہوں نے اردو کا پہلا ناول "مراۃ العروس” 1869ء میں تحریر کیا۔
مولوی نذیر احمد کی دیگر مشہور ناولوں میں "بنات النعش”، "توبتہ النصوح”، "فسانہ مبتلا”، "ابن الوقت”، "رویائے صادقہ” اور "ایامی” شامل ہیں۔
تاریخی و معاشرتی پس منظر
نذیر احمد نے یہ ناول انگریزی ادب سے متاثر ہو کر لکھے، لیکن ان کا ایک خاص مقصد تھا۔ خصوصاً جب 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلمان اپنا قومی وجود برقرار رکھنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ انہوں نے اپنے ناولوں کے ذریعے جمہور، خصوصاً طبقہ نسواں کی نئی نسل کی معاشرتی و اصلاحی تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھایا۔
ان کے ناولوں کا مقصد مسلمانان ہند کی اصلاح اور انہیں صحیح راستے پر ڈالنا تھا۔ اصلاح کے ساتھ ساتھ انہوں نے اردو ادب کو اپنے ناولوں کے ذریعے بہترین کرداروں سے نوازا۔ ان کے ہاں دہلی کی ٹکسالی زبان کی فراوانی ہے۔
ایک اعتراض
ان پر ایک اعتراض یہ ہے کہ وہ اپنے ناولوں میں ناصح بن جاتے ہیں اور لمبی لمبی تقریریں کرتے ہیں۔ لیکن ان کے سامنے ایک مقصد ہے اور وہ مقصد ان کے ہاں فن سے زیادہ اہم ہے۔
پروفیسر افتخار احمد صدیقی کی رائے
پروفیسر افتخار احمد صدیقی نذیر احمد کی ناول نگاری کے بارے میں لکھتے ہیں:
"نذیر احمد کے فن کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ناولوں میں مسلمانوں کی معاشرتی زندگی کی بالکل سچی تصویرکشی کی ہے۔ اور یہی خصوصیت ان کے ناولوں کی دائمی قدرو قیمت کی ضامن ہے۔”
مراۃ العروس کا تنقیدی جائزہ
"مراۃ العروس” اردو زبان کا پہلا ناول ہے۔ اگرچہ اس میں بہت سی خامیاں ہیں، لیکن چونکہ اس سے پہلے اردو میں کوئی ناول نہیں لکھا گیا تھا جو نذیر احمد کے لیے نمونہ کی حیثیت رکھتا، پھر بھی ناقدین نے اسے ایک کامیاب ناول قرار دیا ہے۔
کردار نگاری
مولوی نذیر احمد کے اس ناول کی امتیازی خصوصیت کردار نگاری ہے۔ "مراۃ العروس” میں بہت سے نمایاں کردار ہیں۔
اہم کردار
دور اندیش خان، اکبری، اصغری، خیراندیش خان، اکبر اور اصغری کی ساس، ماما عظمت، محمد عاقل، محمد کامل، محمد فاضل، سیٹھ ہزاری مل، تماشا خانم، حسن آرائ، جمال آراء، شاہ زمانی بیگم، سلطانی بیگم، جیمس صاحب
اکبری کا کردار
اس کہانی میں سارا حسن اکبری کے کردار سے پیدا ہوا ہے۔ اکبری کی بدمزاجی، پھوہڑ پن، بدسلیقگی، الہڑ پن اور اس کی بے عقلی کی حرکتوں میں ایک بھول پن کی وجہ سے کہانی میں خوبصورتی پیدا ہو گئی ہے۔
اکبری بے پروا لڑکی ہے اور شادی کے بعد بھی اس میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی۔ وہی بچوں والی حرکتیں اور بچوں والے کھیل۔ لیکن اس کی بد مزاجی اور لاڈلے پن میں اس کی تربیت کا بڑا ہاتھ ہے۔ یہی بدمزاجی اس کے لیے آگے چل کر بہت سے مسائل کا سبب بنتی ہے۔
اکبری اپنی بدمزاجی کی وجہ سے سسرال والوں سے روٹھ جاتی ہے اور اپنے شوہر کو علیحدہ رہنے کا کہتی ہے۔ لیکن علیحدہ گھر میں اس کی بے وقوفی اور بھی ظاہر ہو جاتی ہے۔ ایک عورت اس کے سارے زیور چرا کر لے جاتی ہے۔ آخر میں ہم دیکھتے ہیں کہ اکبری جو کسی کی نہیں سنتی تھی، واقعات کے تھپیڑوں نے اسے ایک گھریلو عورت بنا دیا اور پھر وہ اپنی چھوٹی بہن اصغری کے ساتھ ہنسی خوشی رہنے لگی۔
اصغری کا کردار
اصغری مولوی نذیر احمد کا اس ناول میں پسندیدہ کردار ہے۔ یہی وہ کردار ہے جس کے ذریعے نذیر احمد اپنا مقصد بیان کرتے ہیں۔ اصغری کا کردار اکبری کا متضاد ہے:
اکبری
بدمزاج، بدسلیقہ، بدخو، احمق، غیر ہنر مند
اصغری
نرم مزاج، سلیقہ مند، شائستہ زبان، عقل مند، ہنر مند
ایک ہی گھر میں رہنے کے باوجود اصغری کی تربیت اپنی بڑی بہن کے مقابلے میں بہترین انداز میں ہوئی ہے۔ شادی کے بعد اکبری کو "مزاج دار بہو” کا نام سسرال والوں نے دیا، جبکہ اصغری کو اس کی ہنر مندی، سلیقہ مندی اور رکھ رکھاؤ کی نسبت سے "تمیز دار بہو” کا نام دیا گیا۔
اصغری اپنے ماں باپ کے گھر میں ہوشیار، ہنر مند اور رکھ رکھاؤ والی تھی، اور اپنے سسرال میں بھی اس نے وہی رنگ برقرار رکھا۔ وہ اپنے سسرال کو اپنی عقل مندی سے قرض داروں سے آزاد کراتی ہے اور ماما عظمت جیسی نمک حرام کا چہرہ سب لوگوں پر واضح کرکے اسے سسرال سے نکال باہر کرتی ہے۔
بیگم شائستہ اکرام اللہ کی رائے:
"اصغری کا کردار، سولہ آنے مثالی ہے۔ اس میں دنیا کی ہر ایک خوبی اور صفت پائی جاتی ہے۔ پڑھنا لکھنا، ہنر، سلیقہ، گھر کا انتظام غرض ہر چیز میں اسے ید طولی حاصل ہے۔ اور میکے سسرال دونوں جگہ اس کی قدر و منزلت ہوتی ہے۔”
ماما عظمت
یہ کردار ایک نوکرانی کا ہے اور مولوی صاحب کے دوسرے کرداروں کی طرح شہرہ آفاق ہے۔ کہانی میں جب ماما عظمت کا کردار آتا ہے تو دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے۔ اور جب وہ پس پردہ چلی جاتی ہے تو کہانی کا مزہ پھیکا پڑ جاتا ہے۔
ماما عظمت کی چوریاں اور لوٹ کھسوٹ ساری فضا کو خوبصورت بناتی ہے۔ قاری اس تجسس میں ہوتا ہے کہ کب اصغری ماما عظمت کی چوریوں کا راز افشاں کرے گی۔ جب مناسب موقع پر اصغری ماما عظمت کی ساری کرتوتوں سے پردہ اٹھاتی ہے اور اسے نوکری سے فارغ کر دیا جاتا ہے تو قاری کا تجسس ختم ہو جاتا ہے۔
خود مولوی نذیر احمد اس کردار کے بارے میں لکھتے ہیں:
"اس ماما عظمت کی حقیقت اس طرح ہے کہ یہ عورت پچیس برس سے اس گھر میں تھی۔ آئے دن اس پر شبہ ہوتا رہتا تھا۔ مگر تھی چالاک گرفت میں نہیں آتی تھی۔ کئی مرتبہ نکالی گئی۔ لیکن پھر بلائی جاتی تھی۔ یوں چوری اور سرزنی ماما عظمت کی تقدیر میں لکھی تھی۔ جتا کر لیتی اور بتا کر چراتی۔ دکھا کر نکالتی اور لکھا کرم کر جاتی۔”
دور اندیش خان
یہ کردار اکبری اور اصغری کے والد ہیں۔ وہ پنجاب کے پہاڑی اضلاع میں سرکار انگریزی کی طرف تحصیل دار ہوتے ہیں۔ اس ناول میں ان کا کردار صرف شروع اور آخر کے حصے میں خطوط کے ذریعے آتا ہے۔ وہ اصغری کو نصیحتیں کرتے ہیں۔
محمد عاقل کا کردار
یہ اکبری کا شوہر ہے۔ عام شوہروں کی طرح نہیں جس میں غصہ ہو اور اپنی بیوی کو دبا کر رکھے۔ وہ خود ایک شریف آدمی ہیں، اس لیے وہ اپنی بیوی اکبری کو کچھ نہیں کہتے۔ وہ ویسا کرتا ہے جیسا اس کی بیوی چاہتی ہے۔ وہ حالات سے مجبور ہوتا ہے اور اپنے ماں باپ سے الگ اپنی بیوی کے ساتھ رہنے لگتا ہے۔
محمد کامل کا کردار
یہ بھی ایک ضمنی کردار ہے جو اصغری کے شوہر ہیں۔ وہ اپنی بیوی اصغری کے رحم و کرم پر چلتے ہیں۔ اس کی اپنی بیوی ہی کی تاکید پر پہلے کچہری میں دس روپے ماہانہ نوکری شروع کر دیتے ہیں اور پھر سیالکوٹ میں سررشتہ دار (مجسٹریٹ) پچاس روپے ماہانہ کی نوکری مل جاتی ہے۔
محمودہ
یہ اصغری کی نند ہے جو ایک سادہ اور معصوم سی لڑکی ہے۔ اس کی تربیت میں اصغری کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اس لیے وہ بھی اصغری کی طرح سلیقہ مند اور ہنر مند ہے۔ اس کی اسی تربیت کی بدولت اس کی شادی ایک بڑے گھر میں ہو جاتی ہے۔
اصغری کی ساس کا کردار
یہ کردار اپنے دور کا مکمل نمائندہ ہے۔ یہ اپنے زمانے کی شریف مسلمان عورتوں کی نمائندہ ہے۔ یہ ایک سیدھی سادی سی عورت ہے جس میں نہ اکبری کی طرح پھوہڑ پن اور بد مزاجی ہے اور نہ اصغری کی طرح ہنر مندی اور سلیقہ مندی۔
خلاصہ کردار نگاری
اس میں کوئی شک نہیں کہ نذیر احمد کی ناول نگاری میں کچھ خامیاں ضرور ہیں، لیکن جہاں تک فن کردار نگاری کا تعلق ہے، وہ اس میدان میں مکمل طور پر کامیاب رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ناولوں کے ذریعے اردو ادب کو بہت خوبصورت اور بڑے کردار دیے ہیں۔
مکالمہ نگاری
"مراۃ العروس” میں عورتوں کی زبان کو امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ عورتوں کی زبان کی اپنی بعض مخصوص اصطلاحیں ہوتی ہیں۔ بول چال میں محاوروں، مثالوں اور کنایوں کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ ان کے لب و لہجے میں طنز نمایاں ہوتا ہے۔
مولوی نذیر احمد نے اس ناول میں عورتوں کی ذہنی کیفیات، توہمات اور رجحانات کی ترجمانی ایسے فطری انداز میں کی ہے کہ مکالمہ پڑھتے وقت کرداروں کی آوازیں ہمارے کانوں میں گونجتی ہیں اور ان کے لب و لہجہ کے اتار چڑھاؤ کو ہم محسوس کرتے ہیں۔
مثال:
محمد عاقل کی ماں اپنے بیٹے سے کہتی ہے:
"ارے بیٹا یہ بھی کہیں ہونی ہے، اشرافیوں میں کہیں بی بیاں چھوٹتی ہیں؟ تم کو اپنی عمران ہی کے ساتھ کاٹنی ہے ہمارا کیا ہے۔ قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں، آج مرے کل دوسرا دن۔”
تجسس و جستجو
کہانی میں تجسس و جستجو کا بہت زیادہ فقدان ہے۔ اس کی اصل وجہ ایک مکمل اور مربوط پلاٹ کا نہ ہونا ہے۔ کئی جگہوں پر قاری کے تجسس میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک واقعہ ماما عظمت کا ہے۔ قاری اس وقت تک اس سوچ میں لگا رہتا ہے کہ آخر اس کی چوری چکاری کا راز فاش ہوگا یا نہیں۔ لیکن اس کے بعد کہانی بہت زیادہ پھیکی پڑ جاتی ہے۔
ایک اور جگہ جب بی حجن اصغری کو بے وقوف بناتی ہے تو اس وقت بھی قاری کے ذہن میں یہ بات ضرور آتی ہے کہ کیا وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔
پلاٹ
پلاٹ سے مراد کہانی میں مختلف واقعات کا منطقی ربط ہے۔ اگر سچی بات کہی جائے تو مولوی نذیر احمد کے اس ناول میں سرے سے پلاٹ ہے ہی نہیں۔ کیونکہ پلاٹ کہانی کو تجسس آمیز اور پیچیدہ بناتا ہے، مگر "مراۃ العروس” کی کہانی بالکل سیدھی سادی ہے۔
یہ ایک اصلاحی قصہ ہے جس کا مقصد عورتوں میں پڑھنے لکھنے کا شوق اور ہنر سلیقہ پیدا کرنا تھا۔ یہ قصہ سادہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور اسے پڑھ کر ہمیں اس معاشرے کے مسلمان گھرانوں اور دلی کے حالات کا پتہ چلتا ہے۔
اسلوب
جہاں تک اس ناول کے اسلوب بیان اور زبان کا تعلق ہے، اس لحاظ سے نذیر احمد کا ناول ایک اعلیٰ درجے کا ناول ہے۔ تمام ناقدین نے اس کی زبان و بیان و اسلوب کو سراہا ہے۔
مولوی نذیر احمد نے ناول کو بہت ہی سادہ، سلیس، روزمرہ اور بامحاورہ زبان میں لکھا ہے۔ اس ناول کی زبان دلی کی عام بول چال کی زبان ہے۔ انہیں اردو پر کافی عبور حاصل تھا اور انہوں نے خوبصورتی سے اس ناول کو لکھا کہ اس کی زبان میں شیرینی، لطافت اور مٹھاس نظر آتی ہے۔
تقریباً ایک سو بیس سال گزرنے کے بعد بھی اس کی زبان ایسی لگتی ہے گویا آج کی زبان ہو۔
مثال:
"حجن نے جان لیا کہ اس کو اچھی چاٹ لگ گئی ہے۔ کہا، ‘تمہارے ڈھب کی کوئی چیز نکلے تو لاؤں’۔ دو دن کے بعد جھوٹے موتیوں کی ایک جوڑی لائی اور کہا ‘لو بی، خود بیگم کے نتھ کے موتی ہیں نہیں معلوم ہزار کی جوڑی ہے یا پانچ سو کی۔'”
فکری جائزہ
نذیر احمد کے رجحانات اور تصورات وہی ہیں جو سرسید کے رفقا کے مخصوص افکار سمجھے جاتے ہیں۔ نذیر احمد کی ناول نگاری کا محرک قومی اصلاح کا جذبہ تھا۔
مرکزی خیالات
عورت کو منزل زندگی کا سنگ بنیاد قرار دینا: نذیر احمد نے عورتوں کو منزل زندگی کا سنگ بنیاد قرار دیا ہے۔ اصغری جیسی اچھی عورتیں ہی کارکن مردوں کو کارہائے نمایاں انجام دینے کے قابل بنا سکتی ہیں۔ اور اکبری جیسی عورتیں مردوں کے لیے ذہنی تکلیف اور پریشانی کا باعث بن جاتی ہیں۔
تعلیم کی اہمیت: وہ جانتے تھے کہ عورتوں کی بے وقعتی کا سبب جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ معاشرتی زندگی میں تعلیم اور جہالت، ہنرمندی اور بے ہنری کے نتائج دکھانے کی غرض سے نذیر احمد نے اکبری اور اصغری کی زندگیوں کے دو مثالی نمونے پیش کیے۔
تعلیم کے بارے میں نذیر احمد کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اتنی تعلیم ہر عورت کے لیے لازمی ہے جس سے وہ اپنے فرائض خانہ داری کو سر انجام دینے کے لائق بن سکے۔ اس تعلیم میں سینا پرونا، کھانا پکانا، پڑھنا لکھنا، حساب کتاب وغیرہ بنیادی اہمیت کی چیزیں ہیں۔
عورت کا دائرہ عمل: نذیر احمد کے نزدیک عورت کا دائرہ عمل صرف خانہ داری کے معمولی انتظامات تک محدود نہیں۔ اسے اپنے شوہر کی مونس و غم گسار اور زندگی کے چھوٹے بڑے معاملات میں اس کی بہترین مشیر و معاون ہونا چاہیے۔
یہ نمونہ وہ اصغری کے کردار میں پیش کرتے ہیں۔ اصغری تعلیم خانہ داری پر عبور رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر کو زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کرتی ہے اور اسے نوکری کا مشورہ بھی دیتی ہے۔
ناخواندہ عورت کے اثرات: نذیر احمد نے اکبری جیسی ناخواندہ عورت کا ذکر کرکے ظاہر کیا ہے کہ ایک ناخواندہ غیر تہذیب یافتہ عورت اپنے گھر اور ساس کے لیے کیا مشکلات پیدا کرتی ہے۔ وہ ہر وقت اپنی ساس سے جھگڑا کرنے پر تلی ہوئی ہوتی ہے۔
تعلیم کے فوائد: نذیر احمد کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اگر عورت ناخواندہ اور غیر تعلیم یافتہ ہو تو جھگڑے اور مشکلات ضرور پیدا ہوں گے۔ کیونکہ تعلیم ایسی چیز ہے جو انسان میں شعور اور اخلاق پیدا کرتی ہے۔ تعلیم ہی انسان کو جینے کا ڈھنگ سکھاتی ہے، نظم و ضبط اور قاعدہ پیدا کرتی ہے، اور انسان میں حوصلہ اور جرات پیدا کرتی ہے۔
مجموعی جائزہ
"مراۃ العروس” کو اگر غور سے دیکھا جائے تو اس میں مافوق الفطرت اور داستانی واقعات کی بجائے ہمارے اپنے حقیقی معاشرے کی تصویریں نظر آتی ہیں۔ اس میں جہاں تعلیم نسواں اور خانگی زندگی کا ذکر ہے، وہاں معاشرے کی دوسری برائیوں کو بھی بے نقاب کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر تاثیر کی رائے:
"اردو ادب میں مولوی نذیر احمد کا نام ان کے ناولوں سے زندہ رہے گا۔ اور نقاد تعجب کیا کریں گے کہ کس طرح ایک عربی، فارسی کا عالم مولوی قسم کا آدمی بھی ایسے ناول لکھ گیا ہے جو گفتگو، کردار سماج کی حالت بیان کرنے میں اس قدر کامیاب ہیں شاید ان سے بہتر کوئی ناول نگار نہیں۔”
اختتام
آج بھی جب ہم "مراۃ العروس” کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ ناول اپنی معنویت نہیں کھوتا۔ نذیر احمد نے اپنے اس ناول کے ذریعے نہ صرف اردو ادب کو ایک نئی صنف سے آشنا کیا بلکہ معاشرتی اصلاح کا ایسا کام کیا جس کی آج بھی ضرورت ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہماری سوسائٹی کے لیے آج پھر کسی "مراۃ العروس” کی ضرورت ہے۔ ایک ایسے ناول کی ضرورت ہے جو ہمیں ہمارے معاشرتی مسائل سے آگاہ کرے، تعلیم کی اہمیت بتائے، اور ایک بہتر معاشرے کی تعمیر کے لیے راہنمائی فراہم کرے۔
مولوی نذیر احمد کا یہ کارنامہ ہے کہ انہوں نے مجلسی زندگی کا ایک مثالی مگر معقول نمونہ قوم کے سامنے پیش کیا۔ ان کی خاص خدمت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی مثالی صلاحیتوں کو گھروں کی آبادی اور خانگی زندگی میں خوشحالی اور مسرت پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا۔


