حیاتیاتی نقطۂ نظر سے بڑھاپا اور انسانی جسم میں تبدیلیاں
تعارف
حیاتیاتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو عمر بڑھنا ایک قدرتی اور ناگزیر عمل ہے۔ ماہرینِ حیاتیات کے مطابق انسان کے جسم میں وقت کے ساتھ ایسی کئی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں جو بڑھاپے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
سپین کے نیشنل سینٹر فار آنکولوجیکل انویسٹیگیشن کے سائنس دان ڈاکٹر مینوئل سرانو کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں ہونے والی حیاتیاتی تبدیلیوں کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں۔ البتہ صحت مند طرزِ زندگی اور بہتر عادات کے ذریعے ان کے اثرات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔
تحقیقی مطالعات کے مطابق ممالیہ مخلوق، خصوصاً انسانوں میں بڑھاپے کی چند بنیادی علامات پائی جاتی ہیں۔ ذیل میں ان میں سے اہم نو علامات بیان کی جا رہی ہیں۔
1️⃣ ڈی این اے کو نقصان پہنچنا
ڈی این اے ہمارے جسم کا بنیادی جینیاتی کوڈ ہے جو خلیوں کے درمیان معلومات منتقل کرتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ اس عمل میں غلطیوں کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ یہ غلطیاں خلیوں میں جمع ہو کر جینیاتی عدم استحکام پیدا کر سکتی ہیں اور بعض اوقات کینسر جیسی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔
2️⃣ ٹیلو میئرز کا کمزور ہونا
کروموسومز کے سروں پر موجود حفاظتی حصے ٹیلو میئرز کہلاتے ہیں۔ یہ بالکل ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے جوتوں کے تسموں کے سروں پر لگے حفاظتی خول۔ عمر کے ساتھ یہ حصے چھوٹے اور کمزور ہوتے جاتے ہیں جس سے خلیوں کی افزائش میں خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔
3️⃣ خلیوں کے رویّے میں تبدیلی
ہمارے جسم کے خلیے مخصوص ہدایات کے تحت اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن وقت گزرنے اور ماحول کے اثرات کے باعث خلیوں کے جینز کے اظہار میں تبدیلی آ سکتی ہے جس سے وہ اپنے اصل کام سے ہٹ کر عمل کرنے لگتے ہیں۔
4️⃣ خلیوں کی تجدیدِ نو کی صلاحیت میں کمی
جسم میں ایک قدرتی نظام موجود ہوتا ہے جو خراب یا پرانے اجزا کو ختم کر کے نئے اجزا پیدا کرتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ یہ نظام کمزور ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں نقصان دہ یا بیکار پروٹین خلیوں میں جمع ہونے لگتے ہیں۔
5️⃣ میٹابولزم کا متاثر ہونا
وقت کے ساتھ خلیوں کی توانائی پیدا کرنے اور غذائی اجزا کو استعمال کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ سے بڑھتی عمر میں ذیابیطس اور میٹابولزم سے متعلق دیگر مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
6️⃣ مائٹوکونڈریا کی کارکردگی میں کمی
مائٹوکونڈریا خلیوں کے اندر موجود وہ اجزا ہیں جو توانائی پیدا کرتے ہیں۔ عمر کے ساتھ ان کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے خلیوں کو نقصان پہنچنے لگتا ہے اور جسمانی کمزوری بڑھتی ہے۔
7️⃣ خلیوں کا “زومبی خلیات” میں تبدیل ہونا
کبھی کبھار خلیے اتنے زیادہ متاثر ہو جاتے ہیں کہ وہ نہ مکمل طور پر مرتے ہیں اور نہ ہی صحیح طرح کام کرتے ہیں۔ ایسے خلیات کو سینیسینٹ یا بوڑھے خلیات کہا جاتا ہے۔ یہ اردگرد کے خلیوں کو بھی متاثر کر کے جسم میں سوزش پیدا کر سکتے ہیں۔
8️⃣ سٹیم سیلز کی طاقت کم ہونا
سٹیم سیلز یا خام خلیے جسم کی مرمت اور نئے خلیات بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن بڑھتی عمر کے ساتھ ان کی توانائی اور فعالیت کم ہونے لگتی ہے جس سے جسم کی مرمت کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔
9️⃣ خلیوں کے درمیان رابطے میں کمی
انسانی جسم کے خلیے مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ رابطہ کمزور پڑ جاتا ہے جس سے جسم میں سوزش اور بیماریوں کے خلاف مدافعتی نظام کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔
نتیجہ
اگرچہ بڑھاپا ایک قدرتی اور ناگزیر حقیقت ہے، لیکن صحت مند طرزِ زندگی جیسے متوازن غذا، ورزش، مناسب نیند اور ذہنی سکون کے ذریعے اس کے اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں طبی ترقی کی بدولت عمر رسیدہ افراد پہلے کی نسبت زیادہ صحت مند اور فعال زندگی گزار رہے ہیں۔ اس لیے بڑھتی عمر کو خوف کی بجائے مثبت انداز سے قبول کرنا اور زندگی سے لطف اندوز ہونا


