📘 یہ تحریر مولانا آفتاب اظہر صدیقی کی کتاب ”فن مضمون نگاری“ سے ماخوذ ایک اقتباس کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔

زبان صرف لفظوں کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ سوچنے، محسوس کرنے اور دنیا کو معنی دینے کا ایک پورا نظام ہے۔ اردو کا یہ نظام جہاں اپنی شیریں اور نرم بناوٹ سے ہم سب کو متاثر کرتا ہے، وہیں کچھ ایسے پیچیدہ گوشے بھی رکھتا ہے جو ہر طالب علم کو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ انہی پیچیدہ گوشوں میں سے ایک ہے بے جان اشیا کی تذکیر و تانیث کا مسئلہ۔

مولانا آفتاب اظہر صدیقی نے اپنی کتاب ”فن مضمون نگاری“ میں جس شگفتہ انداز میں اس مخمصے کو اُجاگر کیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ان کے اس اقتباس نے مجھے بھی وہی معصوم حیرت دے دی جو بچپن میں اردو کے قواعد کے سبق کے دوران ہوتی تھی۔ آج اسی اقتباس کی روشنی میں اس موضوع پر بات کرتے ہیں۔

جنسِ حقیقی سے جنسِ مجازی تک

ہماری عام زندگی میں ”نر“ اور ”مادہ“ کی جو تقسیم ہے، وہ جانداروں تک محدود ہے۔ بکرا مذکر ہے تو بکری مونث، گھوڑا مذکر ہے تو گھوڑی مونث — یہ ہم بچپن میں بھی بہ آسانی سمجھ لیتے ہیں۔ مصنف نے بہت ہی دلچسپ انداز میں بتایا کہ ”مرغا، مرغی“ تک تو ہم ٹھیک پہنچ جاتے تھے، مگر ”چڑا، چڑی“ اور ”کُتا، کُتی“ پر بزرگوں کے غضب ناک چہرے دیکھنے پڑتے تھے۔

یہاں سے اصل الجھن شروع ہوتی ہے۔ بچپن میں یہ سوال بار بار ذہن میں آتا کہ اگر خرگوش مذکر ہے تو اس کی بیوی کو کیا کہیں گے؟ اور اگر مچھلی مونث ہے تو اس کا شوہر کون ہے؟ مصنف نے اس بے انصافی کی طرف بڑی دلنوازی سے اشارہ کیا ہے کہ ہماری زبان میں ایسے جاندار بھی ہیں جن کا مونث موجود نہیں (جیسے کوّا، الو، مچھر، خرگوش) اور ایسے جاندار بھی ہیں جن کا مذکر موجود نہیں (جیسے مچھلی، چیل، مکھی، فاختہ)۔

یہ معاملہ محض جانداروں تک ہی رہتا تو شاید کچھ اصول بن جاتے، لیکن اصل معمہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہی جنس بے جان چیزوں پر لاگو ہوتی ہے۔

سواری کا قاعدہ جو ٹوٹ گیا

مصنف نے بہت خوبصورتی سے یہ بتایا کہ کس طرح ہم بے جان اشیا کی تذکیر و تانیث کے لیے خود ساختہ اصول بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے ”سواری“ کا قاعدہ دریافت کیا۔ چونکہ ”لڑکی، مرغی، بکری“ چھوٹی ”ی“ پر ختم ہو کر مونث ہیں، اس لیے قیاساً ”گاڑی، پالکی، ڈولی، کشتی“ بھی مونث ہو گئیں۔ پھر قیاس کو بڑھایا گیا اور دیگر سواریوں جیسے ٹرین، ریل، موٹر، بس، رتھ اور ناؤ کو بھی مونث مان لیا گیا۔ لیکن یہاں سے ہی یہ قاعدہ ناکام ہو جاتا ہے۔

کیونکہ ”جہاز“ خواہ کشتی سے بھی چھوٹا ہو، مذکر ہے۔ علامہ اقبال نے تو ”موٹر“ کو بھی مذکر استعمال کیا ہے:

”موٹر ہے ذوالفقار علی خاں کا کیا خموش “

اور پھر ”ٹانگہ، ریڑھا، ٹھیلا“ جیسی سواریاں مونث کیوں نہیں؟ ظاہر ہے کہ یہ قاعدہ دھڑام سے گر گیا۔

ہوا کی قسمیں: اصول کی شکنی کی ایک اور مثال

عربی زبان میں ”ریح“ (ہوا) مونث ہے، اس لیے ہر قسم کی ہوا کا نام عربی میں مونث ہے۔ بعض اردو قواعد نویسوں نے یہ اصول نافذ کرنے کی کوشش کی کہ ”نسیم، صبا، پُروا، آندھی“ سب مونث ہوں۔ مگر پھر ”بگولہ“ اور ”جھکّڑ“ نے یہ اصول بھی اُڑا دیا۔ گویا زبان اپنی مرضی سے چلتی ہے، قواعد کے پابند نہیں ہوتی۔

عربی سے اردو تک: ایک الجھا ہوا سفر

مصنف نے ایک اور اہم نکتہ اُٹھایا ہے۔ عربی میں ”ارض، دار، ریح، شمس، عقرب، افعی، فردوس، نعل“ سب مونث ہیں، لیکن اردو میں ان میں سے ”زمین“ اور ”ہوا“ تو مونث ہیں، مگر ”سورج، جوتا، سانپ، بچھو“ مذکر ہو گئے۔ یہ بتاتا ہے کہ اردو نے عربی سے الفاظ تو لیے، مگر جنس کا تعین اپنے رواج کے مطابق کیا۔ یہ رواج کسی منطق کا پابند نہیں، بلکہ صدیوں کے استعمال کا نتیجہ ہے۔

کیا کوئی حل ہے؟

مولانا آفتاب اظہر صدیقی نے اس پورے بحث کا جو خلاصہ پیش کیا، وہی حقیقت ہے:

”جن زبانوں میں بے جان اشیا کی بھی جنس ہوتی ہے، ان میں تذکیر و تانیث کے اصول وضع کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے اور ہمیں اہل زبان کی پیروی کرنی پڑتی ہے۔“

یعنی اردو میں ”میز“ کو مونث بولنے کا کوئی منطقی جواز نہیں، مگر چونکہ اہل زبان ایسے ہی بولتے ہیں، اس لیے ہمیں بھی یہی کرنا ہے۔ اسی طرح ”پلنگ“ مذکر ہے، اس کے برعکس ”چارپائی“ مونث۔ ان کے لیے کوئی کلیہ نہیں۔

آخر میں: زبان کا حسن ہی اس کی بے قاعدگی ہے

یہی بے قاعدگی، یہی بے جا منطق، دراصل زبان کا حسن ہے۔ اگر سب کچھ قواعد میں بندھ جاتا تو زبان مشین بن کر رہ جاتی۔ یہی تو خوبی ہے کہ ہم ”بگولہ“ کو مذکر کہہ کر اس کی تباہ کاری کو مردانہ جلال دیتے ہیں، اور ”آندھی“ کو مونث کہہ کر اس کی مسلسل چیخ کو نسوانی کیفیت سے جوڑ دیتے ہیں۔

مولانا آفتاب اظہر صدیقی نے اس پورے مخمصے کو جس لطیف مزاح اور علمی بصیرت کے ساتھ پیش کیا ہے، وہ نہ صرف قاری کو مسکرانے پر مجبور کرتا ہے بلکہ زبان کی حقیقت سے بھی روشناس کراتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کل کوئی نیا قاعدہ ایجاد ہو جائے، لیکن آج تک اردو کا یہ مخمصہ برقرار ہے — اور شاید یہی اس کی جان ہے۔