اُردُو نثر کا آغاز و ارتقاء اور اقسام

اُردو ادب میں نثر کو ایک بنیادی اور اہم مقام حاصل ہے۔ نثر کے ذریعے خیالات، معلومات، تاریخ، فلسفہ اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کو واضح انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ اُردو نثر کا آغاز کب اور کہاں سے ہوا اس بارے میں مختلف ادیبوں اور محققین کی مختلف آراء ملتی ہیں۔

اردو نثر کا آغاز — صوفیائے دکن کا کردار

اُردو نثر کے آغاز کے حوالے سے کئی نظریات موجود ہیں۔ بعض محققین کے نزدیک اُردو نثر کی ابتدائی شکل صوفیائے کرام کی تصانیف میں ملتی ہے۔

یر کیا گیا۔

اسی طرح ڈاکٹر شعیب انصاری اور خالد انصاری نے اپنی کتاب “روحِ ادب” میں لکھا ہے کہ دکن کے ابتدائی نثر نگاروں میں عین الدین گنج العلم کا نام لیا جاتا ہے۔ اگر

عظیم الحق جنیدی نے اپنی کتاب “خیابانِ ادب” میں لکھا ہے کہ اُردو کی پہلی نثری تصنیف خواجہ سید اشرف جہاں گیر سمنانی کا رسالہ “تصوف و اخلاق” ہے جو 802ھ میں تح

رچہ ان سے چند رسائل منسوب کیے گئے ہیں، لیکن ان کے اصل وجود اور مقام کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

لکھیں۔ ان میں خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کی معروف کتاب “معراج العاشقین” قابلِ ذکر ہے جو پندرہویں صدی کے وسط میں لکھی گئی۔

بعض محققین کے مطابق دکن کے بزرگ میرا جی شمس العشاق کے دو رسالے “جلترنگ” اور “گل باس” بھی نثری ادب میں اہم مقام رکھتے ہیں۔

چودھویں سے سولھویں صدی تک دکن میں صوفیائے کرام نے اخلاق اور تصوف کے موضوع پر اُردو نثر میں کئی تصانیف لکھیں۔

اسی دور کے ایک اور اہم صوفی بزرگ برہان الدین جانم ہیں جن کی دو تصانیف “کلمۃ الحقائق” اور “وجودیہ” مستند اور دستیاب ہیں۔ اس بنیاد پر بعض محققین انہیں اُردو کے اولین نثر نگاروں میں شمار کرتے ہیں۔

ان کے بعد ان کے صاحبزادے سید شاہ امین الدین اعلیٰ نے بھی کئی نثری تصانیف لکھیں جن میں “گفتار حضرت امین”، “وجودیہ” اور “کلمۃ الاسرار” شامل ہیں۔ ان تصانیف کا موضوع بھی زیادہ تر تصوف اور اخلاق ہے۔

دکن سے شمالی ہند تک اردو نثر کا سفر

قطب شاہی دور میں شاعر ملا اسداللہ وجہی کی تصنیف “سب رس” اُردو نثر کی اہم ادبی تصنیف سمجھی جاتی ہے۔

شمالی ہند میں فضل علی فضلی کی تصنیف “کربل کتھا” سے اُردو نثر کے باقاعدہ آغاز کا ذکر ملتا ہے۔ یہ دراصل فارسی کتاب “روضۃ الشہداء” کا ترجمہ ہے۔ اس کتاب کی زبان دہلوی طرز کی نمائندگی کرتی ہے اور اس دور میں اُردو عوام اور خواص دونوں میں مقبول ہورہی تھی۔

اس کے بعد میر محمد حسین عطا خاں تحسین نے فارسی داستان “چہار درویش” کو اُردو میں “نو طرز مرصع” کے نام سے پیش کیا۔ اس تصنیف میں فارسی زبان کا انداز نمایاں نظر آتا ہے۔

اسی زمانے میں مہر چند کھتری مہر نے “نو آئین ہندی” تصنیف کی جس کی زبان نسبتاً سادہ اور سلیس تھی۔

نثری داستانوں میں “عجائب القصص” بھی قابل ذکر ہے جسے شاہ عالم ثانی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شاہ حسین حقیقت بریلوی کی داستان “جذبِ عشق” اور حیدربخش حیدری کا فارسی داستان “مہر و ماہ” کا اُردو ترجمہ بھی اہم نثری کاموں میں شمار ہوتے ہیں۔

 فورٹ ولیم کالج اور اردو نثر کا ارتقاء

10 جولائی 1800ء کو جان گل کرسٹ نے فورٹ ولیم کالج کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے نے اُردو نثر کی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔

اس کالج سے وابستہ مصنفین اور مترجمین کی تعداد تقریباً 84 بتائی جاتی ہے۔ ان میں چند اہم نام یہ ہیں:

  • میر بہادر علی حسینی
  • میرامنؔ
  • حیدربخش حیدری
  • میر شیر علی افسوسؔ
  • مرزا علی لطفؔ
  • مظہر علی خان ولاؔ
  • کاظم علی جوانؔ
  • خلیل اشکؔ
  • نہال چند لاہوری
  • بینی نارائن جہاںؔ
  • اکرم علی
  • للولال کوی
  • مرزا جان طیشؔ

فورٹ ولیم کالج کے قیام کے بعد اُردو نثر نے باقاعدہ ترقی کی منازل طے کرنا شروع کیں اور آج وہ ادب میں ایک مستحکم مقام رکھتی ہے۔

نثر کی تعریف

نثر کی کوئی ایک جامع تعریف متعین نہیں کی جاسکتی۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ نثر ایسا کلام ہے جس میں وزن اور قافیہ کی پابندی نہیں ہوتی۔

تاہم یہ تعریف مکمل طور پر درست نہیں کیونکہ بعض نثری اصناف میں وزن یا قافیہ بھی پایا جاتا ہے۔ اسی لیے نقادوں نے نظم اور نثر کے فرق کو بیان کرکے نثر کی وضاحت کی ہے۔

ادبی نقاد ایڈورڈ البرٹ کے مطابق:

  • نظم میں عموماً وزن ہوتا ہے جبکہ نثر میں نہیں ہوتا۔
  • نظم میں قافیہ کا استعمال عام ہے جبکہ نثر میں قافیہ ضروری قائم کرنا آسان نہیں۔

اردو نثر کی تعریف — نظم اور نثر میں فرق

ڈاکٹر سید عبداللہ کے مطابق نظم اور نثر میں بنیادی فرق درج ذیل ہیں:

نظم

  • نظم میں جذبہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
  • نظم دل کی گہرائیوں سے تعلق رکھتی ہے۔
  • نظم تخیل کے ذریعے زندگی کو پیش کرتی ہے۔
  • نظم کا مقصد قاری کو مسرت دینا ہوتا ہے۔
  • نظم میں عروضی اوزان کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔

نثر

  • نثر میں جذبہ عارضی طور پر شامل ہوتا ہے۔
  • نثر ذہن اور فکر سے تعلق رکھتی ہے۔
  • نثر حقیقت اور معلومات کو بیان کرتی ہے۔
  • نثر کا مقصد عملی یا علمی غرض کو پورا کرنا ہوتا ہے۔
  • نثر میں وزن کی پابندی نہیں ہوتی۔

نثر کی اقسام

صورت کے لحاظ سے نثر کی چار بنیادی اقسام ہیں:

  • نثر عاری
  • نثر مرجز
  • نثر مسجع
  • نثر مقفیٰ

نثر عاری

ایسی نثر جس میں نہ وزن کی پابندی ہو اور نہ قافیہ کی۔ اس میں فصاحت، سلاست اور سنجیدگی پائی جاتی ہے۔

نثر مرجز

ایسی نثر جس میں شعر جیسا وزن ہو مگر قافیہ نہ ہو۔

نثر مسجع

ایسی نثر جس میں فقروں یا جملوں میں وزن اور قافیہ دونوں کی ہم آہنگی پائی جائے۔

نثر مقفیٰ

ایسی نثر جس میں قافیہ ہو مگر وزن کی پابندی نہ ہو۔ غالبؔ کے خطوط میں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔

معنوی اعتبار سے نثر کی اقسام

  • دقیق رنگین
  • دقیق سادہ
  • سلیس رنگین
  • سلیس سادہ

دقیق رنگین

ایسی نثر جس میں الفاظ اور معنی دونوں مشکل ہوں اور ادبی صنعتیں بھی شامل ہوں۔

دقیق سادہ

ایسی عبارت جس میں الفاظ اور معنی مشکل ہوں مگر صنعتوں کا استعمال کم ہو۔

سلیس رنگین

ایسی نثر جس میں الفاظ آسان ہوں مگر ادبی خوبصورتی موجود ہو۔

سلیس سادہ

ایسی نثر جس میں الفاظ اور معنی دونوں آسان ہوں اور ادبی صنعتیں شامل نہ ہوں۔

نتیجہ: اردو نثر کا ارتقاء آج تک

اُردو نثر کا آغاز صوفیائے کرام کی تحریروں سے ہوا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس نے مختلف مراحل طے کیے۔ دکن کے صوفی بزرگوں سے لے کر فورٹ ولیم کالج کے ادیبوں تک ہر دور نے اُردو نثر کو ترقی دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج اُردو نثر علم، ادب، تاریخ اور معاشرتی زندگی کے اظہار کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکی ہے۔