اُردُو رسم الخط کو لاحق خطرات اور ان کا حل

زبان کسی بھی قوم کی پہچان، تاریخ اور تہذیب کی امین ہوتی ہے۔ یہی زبان اپنے اندر صدیوں کا علمی، ادبی اور فکری سرمایہ سمیٹے ہوئے ہوتی ہے۔ اُردُو زبان بھی برصغیر کی ایک عظیم علمی و ادبی روایت کی حامل زبان ہے، جس کا حسن اس کے خوبصورت رسم الخط میں پوشیدہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے موجودہ دور میں ایک ایسا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے جو اُردُو کے اصل تشخص کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے، اور وہ ہے رومن اُردُو۔

رومن اُردُو کیا ہے؟

رومن اُردُو سے مراد اُردُو الفاظ کو انگریزی حروفِ تہجی کی مدد سے لکھنا ہے۔

مثلاً:

  • کتاب → Kitaab
  • دوست → Dost

بظاہر یہ ایک آسان اور سہل طریقہ محسوس ہوتا ہے، لیکن درحقیقت یہ اُردُو زبان کے اصل رسم الخط کو کمزور کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

کیا رومن اُردُو واقعی خطرہ ہے؟

یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ رومن اُردُو اُردُو رسم الخط کے لیے ایک خاموش خطرہ ہے۔ زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ اس کا رسم الخط بھی اس کی روح ہوتا ہے۔ جب رسم الخط تبدیل ہوتا ہے تو زبان کا اصل حسن، اس کی ساخت اور اس کی ادبی روایت متاثر ہوتی ہے۔

رومن اُردُو میں نہ تو کوئی مستقل اصول ہیں اور نہ ہی کوئی معیاری طریقہ۔ ایک ہی لفظ کو کئی مختلف انداز میں لکھا جا سکتا ہے، جیسے:

  • کام → Kaam، Kam، Km

یہ غیر یقینی صورتحال زبان کے نظام کو بگاڑ دیتی ہے۔

ترکی کی مثال: ایک سبق

اگر ہم رومن اُردُو کے ممکنہ خطرات کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ترکی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے بعد 1928ء میں مصطفیٰ کمال اتاترک نے ترکی زبان کے رسم الخط کو عربی سے بدل کر رومن کر دیا۔

بظاہر اس کا جواز شرح خواندگی بڑھانا بتایا گیا، لیکن اس کے نتائج نہایت گہرے اور دور رس تھے:

  • نئی نسل اپنے ماضی سے کٹ گئی
  • قدیم اسلامی اور تاریخی کتب ناقابلِ فہم ہو گئیں
  • مذہبی و تہذیبی شناخت کمزور پڑ گئی

یہاں تک کہا گیا کہ:

"ترک قوم رات کو سوئی تو پڑھی لکھی تھی، صبح اٹھی تو ان پڑھ ہو چکی تھی۔”

کیونکہ وہ اپنے ہی علمی خزانے کو پڑھنے سے قاصر ہو گئی تھی۔

سوشل میڈیا اور رومن اُردُو کا فروغ

رومن اُردُو کے پھیلاؤ میں سب سے بڑا کردار سوشل میڈیا نے ادا کیا ہے، جیسے:

  • فیس بک
  • واٹس ایپ
  • ٹوئٹر

ابتدائی دور میں جب موبائل فونز میں اُردُو کی بورڈ دستیاب نہیں تھا، تب رومن اُردُو ایک مجبوری تھی۔ لیکن آج جب اُردُو کی بورڈ باآسانی دستیاب ہے، تو بھی ہم اسی عادت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ محض سہولت نہیں بلکہ سستی اور لاپروائی کی علامت بن چکی ہے۔

لوگ رومن اُردُو کیوں استعمال کرتے ہیں؟

1. سہولت اور عادت

لوگ سمجھتے ہیں کہ انگریزی حروف میں لکھنا آسان ہے، اس لیے وہ اسی کو ترجیح دیتے ہیں۔

2. اُردُو املا کا خوف

بعض افراد اُردُو رسم الخط اس لیے استعمال نہیں کرتے کہ کہیں املا کی غلطی نہ ہو جائے اور لوگ مذاق نہ اڑائیں۔

حالانکہ:

غلطی سیکھنے کا ذریعہ ہوتی ہے، اور اصلاح کرنے والا دراصل ہمارا خیرخواہ ہوتا ہے۔

3. انگریزی کا بڑھتا ہوا اثر

ہماری معاشرت میں انگریزی زبان کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

نوکری، تعلیم اور مقابلے کے امتحانات میں انگریزی کی اہمیت نے لوگوں کو اُردُو سے دور کر دیا ہے۔

کیا اُردُو مشکل زبان ہے؟

یہ ایک غلط فہمی ہے کہ اُردُو لکھنا مشکل ہے۔ اگر جاپانی اور چینی اقوام اپنی پیچیدہ زبانوں اور رسم الخط کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں، تو ہم اپنی نسبتاً آسان زبان سے کیوں دور ہو رہے ہیں؟

اصل مسئلہ زبان کی مشکل نہیں بلکہ ہماری ترجیحات ہیں۔

رومن اُردُو کے نقصانات

1. رسم الخط کا زوال

اگر یہی رجحان جاری رہا تو آنے والی نسلیں اُردُو رسم الخط سے نابلد ہو جائیں گی۔

2. ادبی سرمایہ ضائع ہونے کا خطرہ

اُردُو کا بے شمار ادب، شاعری اور علمی مواد اصل رسم الخط میں موجود ہے۔

اگر نئی نسل اسے پڑھ نہ سکے تو یہ خزانہ بے معنی ہو جائے گا۔

3. زبان کی شناخت ختم ہونا

رسم الخط زبان کی پہچان ہوتا ہے۔

اس کے بغیر زبان اپنی انفرادیت کھو دیتی ہے۔

4. ابلاغ میں ابہام

رومن اُردُو میں ایک لفظ کے کئی املا ہو سکتے ہیں، جس سے مفہوم واضح نہیں رہتا۔

حل کیا ہے؟

1. تعلیمی اداروں میں شعور بیدار کیا جائے

اسکولز اور کالجز میں اُردُو رسم الخط کی اہمیت پر لیکچرز اور سیمینارز منعقد کیے جائیں۔

2. سوشل میڈیا پر مہم چلائی جائے

رومن اُردُو کے بجائے اُردُو رسم الخط کے استعمال کو فروغ دیا جائے۔

3. اُردُو کی بورڈ کا استعمال عام کیا جائے

ہر شخص کو اپنے موبائل اور کمپیوٹر میں اُردُو کی بورڈ استعمال کرنے کی ترغیب دی جائے۔

4. مقابلے کے امتحانات میں اُردُو کو فروغ دیا جائے

اگر اُردُو مضمون نویسی کو اہمیت دی جائے تو لوگ خود بخود اس کی طرف راغب ہوں گے۔

5. میڈیا کا کردار

صحافی، اینکرز اور لکھاری اس موضوع کو اجاگر کریں اور عوام میں شعور پیدا کریں۔

ہماری ذمہ داری

زبانیں خود نہیں مرتیں بلکہ انہیں بولنے والے لوگ انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر ہم نے آج اُردُو رسم الخط کو نظر انداز کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ:

  • زبان صرف بولنے کا ذریعہ نہیں
  • بلکہ ہماری شناخت، تاریخ اور ثقافت کا آئینہ ہے

نتیجہ

رومن اُردُو وقتی سہولت تو فراہم کرتی ہے، لیکن طویل مدت میں یہ اُردُو زبان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر ہم نے بروقت اس رجحان کو نہ روکا تو وہ دن دور نہیں جب اُردُو رسم الخط ہمارے لیے اجنبی بن جائے گا۔

لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ:

  • ہم خود بھی اُردُو رسم الخط اپنائیں
  • دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں
  • اور اپنی زبان کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں

کیونکہ:

جس زبان کا رسم الخط ختم ہو جائے، اس کا ادب اور تہذیب بھی مٹنے لگتی ہے۔