تاریخی و لسانیاتی مکمل تحقیق

اردو زبان دنیا کی خوبصورت، شیریں اور وسیع الادب زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی شعری روایت، نثری سرمایہ اور فکری ورثہ صدیوں پر محیط ہے۔ تاہم ایک بنیادی سوال ہمیشہ اہلِ علم کے درمیان زیرِ بحث رہا ہے کہ:

اردو کے حروفِ تہجی کی اصل تعداد کتنی ہے؟

کچھ ماہرین کے مطابق یہ تعداد 35 یا 36 ہے، جبکہ جدید لسانیاتی تحقیق اس سے مختلف اور زیادہ جامع نقطۂ نظر پیش کرتی ہے۔ اس مضمون میں اسی سوال کا تاریخی، لسانیاتی اور صوتیاتی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

حروفِ تہجی اور لسانیات کا تعلق

لسانیات (Linguistics) اور صوتیات (Phonetics) کے مطابق کسی بھی زبان کے حروف دراصل آوازوں (Sounds) کی علامت ہوتے ہیں۔

ہر زبان میں بنیادی اکائی کو فونیم (Phoneme) کہا جاتا ہے۔

اگر دو آوازیں معنی میں فرق پیدا کریں تو انہیں الگ فونیم سمجھا جاتا ہے، اور ان کے لیے الگ علامت یا حرف ہونا ضروری ہوتا ہے۔

اسی اصول کی بنیاد پر اردو کے حروفِ تہجی کی تعریف وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہی ہے۔

ابتدائی تصور: 35 یا 36 حروف

بیسویں صدی کے ابتدائی دور تک اردو کے حروفِ تہجی کو عام طور پر 35 یا 36 سمجھا جاتا تھا۔

اس دور کی:

  • درسی کتب
  • اردو قاعدے
  • ابتدائی لغات

میں یہی تعداد درج ملتی ہے۔

اس زمانے میں حروف کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا تھا:

  1. مفرد حروف
  2. مرکب (ہکاری) حروف

ہکاری (Aspiration) آوازیں

ہکاری حروف وہ آوازیں ہیں جن میں بنیادی حرف کے ساتھ "ہ” کی آواز شامل ہو جاتی ہے، جیسے:

بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، کھ، گھ

ابتدائی طور پر انہیں دو حروف کا مجموعہ سمجھا جاتا تھا، مگر جدید تحقیق نے ثابت کیا کہ یہ الگ صوتی اکائیاں ہیں۔

جدید لسانیاتی تحقیق

جدید صوتیاتی تحقیق کے مطابق:

  • ہکاری آوازیں الگ فونیم ہیں
  • ان میں ہوا کا مخصوص جھٹکا شامل ہوتا ہے
  • یہ عام آوازوں سے واضح طور پر مختلف ہیں

لہٰذا انہیں محض مرکب نہیں بلکہ مستقل صوتی حروف تسلیم کیا جاتا ہے۔

بابائے اردو مولوی عبدالحق کا کردار

مولوی عبدالحق نے اردو لغت کی تدوین کے دوران یہ اصول اپنایا کہ:

ہکاری آوازوں کو بھی الگ ترتیب اور شناخت دی جائے۔

اس کا مقصد لغت کو سائنسی اور صوتیاتی اصولوں کے مطابق منظم کرنا تھا۔

اس سے اردو لغت نگاری میں ایک نیا دور شروع ہوا۔

اردو لغت بورڈ اور ترقی

بعد میں یہ منصوبہ اردو لغت بورڈ کے تحت جاری رہا۔

اس میں شان الحق حقی سمیت کئی ماہرین نے حصہ لیا اور اردو کی صوتی ساخت کو مزید واضح کیا۔

اردو حروف کی تاریخی تشکیل

اردو کے حروف مختلف زبانوں کے امتزاج سے وجود میں آئے:

1. عربی سے (28 حروف کا اثر)

بنیادی صوتی نظام

2. فارسی سے اضافی حروف

پ، چ، ژ، گ

3. اردو کی مخصوص آوازیں

ٹ، ڈ، ڑ

4. ہکاری آوازیں

بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، کھ، گھ

5. اضافی علامات

ہمزہ (ء)، الفِ ممدودہ (آ)، بڑی ے

اردو حروفِ تہجی کی جدید فہرست

اردو کے بنیادی اور صوتیاتی طور پر تسلیم شدہ حروف درج ذیل ہیں:

ا، آ، ب، پ، ت، ٹ، ث، ج، چ، ح، خ، د، ڈ، ذ، ر، ڑ، ز، ژ، س، ش، ص، ض، ط، ظ، ع، غ، ف، ق، ک، گ، ل، م، ن، و، ہ، ء، ی، ے

اور صوتی امتزاجی حروف:

بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، کھ، گھ

دو چشمی "ھ” کی اہمیت

اردو میں دو چشمی "ھ” ایک بنیادی صوتی علامت ہے جو کئی الفاظ میں معنی اور آواز کو بدل دیتی ہے:

مثلاً:

  • تمھارا
  • جنھیں
  • چولھا
  • ننھا

اس کے بغیر درست ادائیگی ممکن نہیں رہتی۔

نونِ غنہ (ں) کا مسئلہ

ڈیجیٹل دور میں نونِ غنہ کو بھی بعض ماہرین نے الگ صوتی اکائی کے طور پر شامل کیا تاکہ:

  • کی بورڈنگ آسان ہو
  • صوتی املا بہتر ہو
  • کمپیوٹرائزڈ اردو درست رہے

حروف کی مجموعی تعداد

مختلف لسانیاتی آرا کے مطابق اردو حروف کی تعداد مختلف بیان کی جاتی ہے:

  • ابتدائی تصور: 35–36
  • صوتیاتی توسیع کے بعد: 50 سے زائد
  • جدید تدریسی اور لغوی نظام میں: تقریباً 52–54

یہ اختلاف دراصل تعریف (Definition) کے فرق کی وجہ سے ہے، نہ کہ زبان کی کمی یا زیادتی کی وجہ سے۔

نتیجہ

اردو حروفِ تہجی کی تعداد کوئی جامد عدد نہیں بلکہ ایک لسانیاتی تصور ہے جو وقت کے ساتھ ارتقا پذیر رہا ہے۔

ابتدائی طور پر اسے محدود سمجھا جاتا تھا، مگر جدید تحقیق نے ثابت کیا کہ:

  • ہر آواز کی الگ حیثیت ہے
  • ہکاری آوازیں مستقل فونیم ہیں
  • اردو کا صوتی نظام نہایت منظم اور وسیع ہے

لہٰذا اردو کے حروفِ تہجی کو صرف تعداد کے بجائے ایک مکمل صوتی نظام کے طور پر سمجھنا زیادہ درست ہے۔