پہچان، مثالیں اور املا کے قواعد
📖 تعارف: اردو قواعد کی رو سے کچھ ایسے حرف بھی ہیں جو بڑے ”شرارتی“ ہیں۔ یہ اپنے سے پہلے آنے والے حرف سے دوستی کر کے اُسے اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں (یعنی پچھلے حرف سے ملا کر لکھے جاتے ہیں)، مگر اپنے بعد آنے والے حرف سے دوستی نہیں کرتے اور نہ اُسے اپنے ساتھ ملاتے ہیں — بلکہ اُس سے فاصلہ کر لیتے ہیں اور اُسے اکیلا چھوڑ دیتے ہیں۔
(خود غرضی کی حد نہیں ویسے ۔۔۔؟) 😏
شرارتی حروف کی فہرست (بے وفا حروف)
یہ وہ حروف ہیں جو صرف اپنے سے پہلے والے حرف سے ملتے ہیں، بعد والے سے قطع تعلقی کر لیتے ہیں۔ نیچے ان کی تفصیل اور مثالیں دی جا رہی ہیں:
| حرف | مثالیں (جہاں یہ حرف درمیان یا آخر میں آئے) | وضاحت / مزید مثالیں |
| ا | بات، کام، نام، عام، شام، انجام، آرام، سلام، مقام | الف کبھی کسی حرف سے پہلے نہیں ملتا، ہمیشہ الگ لکھا جاتا ہے۔ |
| د | بدن، دودھ، دیوار، دکھ، دروازہ، خدا، خدمت، اندر، درد | دال کے بعد والا حرف ہمیشہ الگ لکھا جاتا ہے۔ |
| ڈ | ڈبڈبانا، رنڈوا، ڈگری، ڈگمگانا، ڈوبنا، ڈور، ڈوری، کھڈا | ڈال بھی اسی قاعدے کی پابند ہے، بعد والے سے نفرت؟ |
| ذ | نذر، ذرّہ نواز، ذی آبرُو، ذرا ذرا، ذرّات، مذہب، باذوق | ذال کے بعد کا حرف الگ رہتا ہے۔ |
| ر | برس، طرح، فرار، رات، راج، پریت، راکھ، ترقی، درخت | رے بھی بڑا شرارتی — سامنے والے کو ٹھکرا دیتا ہے۔ |
| ڑ | ٹیڑھا، ریوڑ، ریوڑی، ریڑھا، کھڑا، بھیڑ، چوڑی | ڑ (ڑے) کسی لفظ کے شروع میں نہیں آتا، صرف درمیان یا آخر میں آتا ہے، اور بعد والے سے نہیں ملتا۔ |
| ز | زمزم، معجزہ، زارینہ، زاغ، زانو، زرداری، زیادہ، روزہ | زے کا بھی یہی حال — دوستی صرف پچھلے سے۔ |
| ژ | ٹیلی ویژن، ژالہ باری، ژرف نگاہ، ڈیژن، مژہ | ژے اردو کا مہمان حرف ہے، شرارت میں کسی سے کم نہیں۔ |
| و | تول، پول، نول، ہیولہ، علوم، نیولا، خواب، دوست | واؤ بھی بعد والے کو اکیلا چھوڑ دیتا ہے۔ |
مزید شرارتی حروف (اضافی فہرست)
مندرجہ ذیل حروف بھی اسی قاعدے کے تحت آتے ہیں — یہ صرف پچھلے حرف سے ملتے ہیں، آگے والے سے نہیں:
| حرف | مثالیں | حرف | مثالیں |
| ب (بعض صورتوں میں)* | باب، رب، شب | پ | تلپ، چپ، کپ |
| ت | بست، دست، رست | ٹ | چٹ، پٹ، کھٹ |
| ج | تاج، راج، سج | چ | پچ، کچ، لچ |
| ح | فتح، ناح، صبح | خ | شاخ، تاخ، آخ |
| ص | خص، وص، قص | ض | عرض، حفض، بض |
| ط | بسط، قط، خط | ظ | حظ، لظ، وعظ |
*نوٹ: ب، پ، ت، ٹ، ج، چ وغیرہ عموماً بعد والے حرف سے مل جاتے ہیں، لیکن جب یہ کسی لفظ کے آخر میں آئیں تو بعد میں کوئی حرف نہیں ہوتا۔ البتہ ”و“، ”ا“، ”ر“، ”ز“ وغیرہ تو ہمیشہ شرارت کرتے ہیں۔
قاعدہ: شرارت کیسے پہچانیں؟
- پہلی شرط: شرارتی حروف صرف اپنے سے پہلے والے حرف سے ملتے ہیں۔
- دوسری شرط: ان کے بعد آنے والا حرف ہمیشہ الگ لکھا جاتا ہے — قطع تعلقی صاف نظر آتی ہے۔
- تیسری شرط: اگر یہ حروف لفظ کے آخر میں ہوں تو بعد میں کوئی حرف ہوتا ہی نہیں، اس لیے شرارت کا موقع نہیں ملتا۔
😄 انسانی معاشرے سے مزاحیہ مشابہت:
کچھ لوگ بھی ایسے ہی ”سمارٹ“ بنتے ہیں ناں…! کچھ نہ کچھ لینے کے لیے دوسروں کے ساتھ مل جانا — پر جب دینے کی باری آئے تو فاصلہ کر لینا۔ پتہ نہیں یہ حروف ہیں کہ انسان؟ 😜
پنجابی میں کہتے ہیں: ”پر دوجیاں نوں کجھ دین لگیاں انہاں دی جان نکلدی اے“
✍️ مشق (قارئین کے لیے): درج ذیل الفاظ میں شرارتی حروف کو پہچانیں اور بتائیں کہ انہوں نے کس سے دوستی کی اور کس سے فاصلہ کیا: ”دروازہ“، ”آرام“، ”ذرّہ“، ”ٹیلی ویژن“، ”چوڑی“۔
📘 خلاصہ: اردو کے ان ”شرارتی حروف“ کو پہچاننا درست املا کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ حروف یہاں آئیں، بعد والے حرف کو الگ لکھنا قاعدہ ہے۔ ان کی شرارت سے بچنے کا واحد راستہ قاعدہ یاد رکھنا ہے۔
یہ تحریر ”علم القواعد“ کے سلسلے کا حصہ ہے۔ اگلی قسط میں ہم ان حروف کے ساتھ ”وفادار حروف“ کا بھی جائزہ لیں گے جو سب سے مل کر لکھے جاتے ہیں۔


